گنّا اور شوگر ملیں


گنّا اور اس کے موجودہ مسائل
گنا ہماری اہم فصلوں میں سے ایک فصل ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے ہمارے کسان کپاس کی فصل کی جگہ گنا زیادہ کاشت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اب لگتا ہے کہ وہ گنے کی کاشت کو بھی خیر باد کہہ دیں گے۔ کپاس کی فصل کے ان گنت مسائل ہیں، مختلف ضرر رساں کیڑوں سے فصل کا تباہ ہوجانا، قیمت مناسب نہ ہونا، پانی کے مسائل، فصل پر اٹھنے والے اخراجات میں مسلسل اضافہ، کھادوں کی بڑھتی قیمت، کپاس کی کاشت کے حوالے سے حکومتی عدم دلچسپی اور کسی حکتِ عملی کا فقدان، کپاس کے کاشت کے مخصوص اضلاع میں دوسری فصلوں کی کاشت،۔ ان مسائل سے تنگ آکر کسان گنے کی کاشت پر مجبور ہوا۔ آج سے سات آٹھ سال پہلے یہ فصل حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت پر با آسانی فروخت ہو جایا کرتی تھی۔۔ لیکن سال بہ سال اسکی قیمت گھٹنے لگی اور کبھی 250 روپے فی من بکنے والی فصل آج 182 روپے فی من کی مقرر کردہ قیمت میں بھی شوگر ملیں خریدنے سے انکاری ہیں۔ اگرچہ چینی کی قیمت 40 روپے سے 55 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی 3 اہم وجوہات ہیں؛
1۔ گنے کی فصل میں بے تحاشہ اضافہ۔کپاس کی فصل کے نقصانات سے دلبرداشتہ کسانوں نے گنے کی فصل کی اچھی قیمت ملنے کی آس اور امید میں اپنی زمینوں پر گنے کی کاشت کو ترجیح دی اور ہر سال اس رحجان میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا، اب اس سال(2017) میں شوگر ملوں کی استعدادِ کار سے زیادہ گنا دستیاب ہے اور مارکیٹ کے اصول طلب اور رسد کا فرق اب اتنا ہے کہ شوگر ملیں اپنی شرائط پر گنے لے سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ شوگر ملوں کے پاس پچھلے سال کا چینی کا ذخیرہ ابھی موجود ہے۔
2۔ حکومتوں کی بے حسی اور عدم فعالیت۔ چونکہ زرعی پالیسی ہر صوبہ خود بنانے کا مجاز ہے اس لیے ہر صوبائی حکومت نے اپنے نرخ خود طے کرنے ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اس وقت کسی صوبائی حکومت کو کسان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سندھ ہو یا پنجاب دونوں صوبوں میں گنے کے کاشت کاروں کو ذلیل و خواار کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں 15 ستمبر 2017 کو سرکاری نرخوں کا اعلان ہو جانا چاہیے تھا اور شوگر ملیں 15 اکتوبر سے کرشنگ سیزن شروع کرنے کی پابند تھیں لیکن حکومت کی طرف سے امدادی قیمت کا اعلان دسمبر کے اختتام پر کیا گیا اور کرشنگ کا آغاز بھی بہت دیر سے کیا گیا ۔ نیز کچھ شوگر ملیں ابھی تک کرشنگ شروع نہیں کر سکی ہیں یا کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی۔ کسانوں کے مسلسل احتجاج کے با وجود تا حال کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اگرچہ حکومت نے 10 روپے فی من زر تلافی بھی شوگر ملوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
3۔ شوگر ملز مافیا کا کسانوں کا استحصال۔ گنے کی فصل میں بے تحاشہ اضافے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب شوگر ملیں اپنی شرائط پر گنا لے رہی ہیں۔ گنے کی خریداری کے لیے وضع طریقہ کار میں بہت نقائص ہیں۔ گنے سے لدی ٹرالیوں کو بہت انتظار کرایا جاتا ہے، رقوم کی ادائیگی بہت دیر سے کی جاتی ہے۔ کچھ شوگر ملوں نے تو پچھلے سال کی رقم بھی کسانوں کو ابھی تک ادا نہیں کی ہے۔ سندھ میں حکمران خاندان کےہی گروپ کی 19 شوگر ملیں ہیں، اسے طرح پنجاب میں بھی شوگر ملوں کے مالک حکومت میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ شوگر ملیں ایک مافیا کی طرح اپنی شرائط پر کام کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ حکومت کا حصہ ہیں اس لیے کسانوں کا استحصال ان کے لیے آسان ہے۔ اپنی من پسند امدادی قیمت مقرر کرانا، اپنی مرضی سے کرشنگ کا آغاز کرنا وغیرہ اس کی واضح مثال ہیں۔

Advertisements

یوم آزادی 2017


آج 14 اگست 2017 کا دن ہے۔ پاکستان کی آزادی کے 70 سال پورے ہوئے۔
ان 70 سالوں میں ہم نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں کیے! آج ہر برائی اور ظلم ہمارے ملک میں روا ہے۔ یہ ملک اسلام اور مسلمانوں کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر آج اسلام اس ملک میں بدنام زیادہ ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر وہ برائی موجود ہے جو اسلام نے حرام اور ظلم قرار دی ہے۔ ہر قسم کی بد عنوانی، جھوٹ، فریب، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، قتل، زنا، شراب، لسانی و مذہبی عصبیت الغرض ہر برائی آج ہر طرف اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کا عفریت ہزاروں جانوں کو لقمہ اجل بنا چکا ہے۔ مذہبی جنونیت اور عمومی جہالت کے ہاتھوں ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ آج پاکستان میں ہزاروں مافیا پنپ رہی ہیں اور معاشرے کو اپنے مکروہ دھندوں سے آلودہ کر رہی ہیں۔
آج ہمیں ان سب برائیوں کے خلاف ایک عزم مصمم سے نبرد آزما ہونا ہی ہو گا اگر پاکستان کو بچانا اور ایک خوش حال ملک بنانا ہے۔ اپنے معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام لانا ہوگا تا کہ ہماری آئندہ نسلیں ایک پر سکون زندگی بسر کر سکیں۔
دعا ہے کہ میرا پیارا مالک ہمیں ان جہالتوں اور ظلمتوں سے نجات دلائے اور خوشحالی اور امن و سکون پاکستان کا مقدر بنائے۔ آمین

آخر قبر میں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے


روزنامہ جنگ جیسے اخبار کی خبر دیکھئیے۔۔۔آخر ہمارے ضمیر کو ہو کیا گیا ہے؟ بی بی سی اپنی خبر پر قائم ہے اور ہمارے اخبارات جھوٹ کا پلندہ شائع کرنے سے باز ہی نہیں آتے۔ آخر کوئی تو اخلاقیات ہونی چاہئیے۔۔۔۔۔۔باطل کا ساتھ دے کر یہ لوگ کتنا مال بنا لیں گے، جانا تو آخر قبر ہی میں ہے جہاں سبھی خالی ہاتھ ہی جاتے ہیں کیا فقیر اور کیا بادشاہ۔۔۔۔۔۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔۔۔۔آمین
%d8%ac3
%d8%ac1

%d8%ac2

%d8%ac4

%d8%ac5%d8%a8

%d8%ac6%d8%a8
بی بی سی کی اپنی خبر کی صداقت پر اصرار
http://www.bbc.com/urdu/pakistan-38679048
جنگ اخبار کی خبر کا لنک
http://e.jang.com.pk/01-19-2017/karachi/pic.asp?picname=252746
بی بی سی کی اصل خبر کا لنک
http://www.bbc.com/urdu/world-38601645

شرم باقی نہیں رہی ہے۔۔


وطنِ عزیز میں صحافت کا معیار تو دن بدن گرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ دھوکہ اور فریب دینا شاید ہماری سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔ کتنے فریبی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے نقاب ہو چکے ہیں مگر لوگ ہیں کہ باز ہی نہیں آتے۔ معمولی باتوں پر بریکنگ نیوز اور اسپیشل رپورٹیں آپ سب نے ملاحظہ تو کی ہونگی۔ آج ایک نمونہ پیش خدمت ہے؛
کوئی تین سال پہلےیوٹیوب پر  ٹیکنالوجی کی ایک ٹرِک پوسٹ کی گئی تھی، اس پوسٹ  کا لنک نیچے دیا گیا ہے، پہلے اسے ملاحظہ کیجئیے اور پھر اپنے صحافیوں کے اعلیٰ صحافتی معیار کی داد دیجئیے۔ بعض چینلز پر اس خبر کی رپورٹ بھی چلائی جا چکی ہے۔
اور اس بات کی داد بھی دیجئیے کہ اب یوٹیوب کے شعبدوں کو لوگ اپنی ایجاد کہتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے اگر چہ اصل پوسٹ کوئی 3  سال پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ ایک معمولی ٹرِک کو ایک عظیم اور حیرت انگیز ایجاد قرار دینا واقعی دِل گردے اور ڈھٹائی کا کمال ہے۔ ایسی اسکرین اور ایسی عینک کیا کہنے اس ایجاد کے۔۔۔۔۔۔
ان صاحبان کو بھی داد دیجئیے جو کسی اور کے کام کو اپنی ایجادات قرار دیتے ہوئے حکومتی تحسین و معاونت اور سرپرستی کے طلب گار بھی ہیں۔
واقعی شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

youtube link:

تصویری خبر
BL-news

آج نیوز کا لنک: Aaj news link: http://urdu.aaj.tv/latest/%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%DB%8C%D9%84-%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DB%8C-%D8%8C%DA%A9%D8%A7%D9%85-%D9%86%D8%B8%D8%B1/

معیارِ صحافت


 آج دو فروری کے جنگ کراچی میں یہ خبر بہت سے لوگوں نے پڑھی ہو گی۔اول تو یہ کوئی خبر نہیں ہے کی فروری میں 29 دن ہیں۔  پھر اسے ایک خاص خبر کی شکل دینا اور ایک مخصوص نایاب صورت میں پیش کرنا۔
ایسی فضول بیشمار خبریں ہیں جو انتہائی غلط اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔
میرا مقصد تنقید صرف یہ ہے کہ آپ کچھ تحقیق تو کر لیا کریں۔
اس صحافی نے کیا تحقیق کی ہو گی؟یہ خبر صرف بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔ باقی قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔
سن 2044 کا فروری بھی سن 2016 کے فروری ہی کی طرح ہو گا۔ سن 2044 اور سن 2016 کے کیلنڈر کے عکس بھی ملاحظہ کر لیجئیے۔
اب 823 سال کے ہندسے کو دیکھئیے اور اس صحافی کی تحقیق کی داد ضرور دیجئیے۔۔۔

 

2016

2016

feb-16

feb-44

شرم تم کو مگر نہیں آتی


کل 30 جنوری 2016 کو ہمارے محترم وزیرِاعظم صاحب نے فرمایا کہ
“آلو کی قیمت 4 یا 5 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، اب حکومت اس سے زیادہ کیا قیمتیں کم کرے اور عوام کو ریلیف دے”
تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا احسان عظیم کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے تو حاتم طائی کی قبر کو بھی لات دے ماری۔ اب عوام بیچارے کیا کریں۔ خوشی سے ناچ بھی رہے ہیں اور بلند آواز میں گاتے بھی جا رہے ہیں
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی

عوام کوواقعی مر جانا چاہیئے


مفادات، ذاتی پسند نا پسند، اقرباء پروری، تعصب، ڈھٹائی اور بد عنوانی کی سیاست سمجھنی ہو تو میرے پیارے پاکستان کی سیاست کو دیکھئیے، کچھ اور رموز ِحکومت بغور سمجھنے ہو ں تو پھر سندھو ساگر کی زمین صوبہ سندھ کی سیاست کو خوردبین سے دیکھئیے۔
پچھلے ایک ہفتے سے سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سیاسی بزرچمہروں کے ہاتھ آ چکا ہے اور عوام ساری بات سمجھ چکے ہیں کہ معاملہ کیا اور کس کو بچانے کا ہے۔ مگر ایسی ڈھٹائی اور بے حسّی کا زمانہ ہے کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی
اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کا کرپشن سے کیا لینا دینا؟ ان کا کام صرف امن و امان، دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر ”یہ کرپشن میں بھی گھس گئے۔“ گویا جرائم کچھ اور ہوتے ہیں، یا دہشت گردی اور دیگر جرائم ”کرپشن“ ختم کیے بغیر نیست و نابود کیے جا سکتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ جرم کے درخت کی شاخوں کو تو کاٹ دیا جائے مگر ”جڑوں“ کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اس سادگی پر تو پاکستانی عوام کو مر ہی جانا چاہئیے۔

QAS-1