یوم آزادی 2017


آج 14 اگست 2017 کا دن ہے۔ پاکستان کی آزادی کے 70 سال پورے ہوئے۔
ان 70 سالوں میں ہم نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں کیے! آج ہر برائی اور ظلم ہمارے ملک میں روا ہے۔ یہ ملک اسلام اور مسلمانوں کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر آج اسلام اس ملک میں بدنام زیادہ ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر وہ برائی موجود ہے جو اسلام نے حرام اور ظلم قرار دی ہے۔ ہر قسم کی بد عنوانی، جھوٹ، فریب، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، قتل، زنا، شراب، لسانی و مذہبی عصبیت الغرض ہر برائی آج ہر طرف اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کا عفریت ہزاروں جانوں کو لقمہ اجل بنا چکا ہے۔ مذہبی جنونیت اور عمومی جہالت کے ہاتھوں ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ آج پاکستان میں ہزاروں مافیا پنپ رہی ہیں اور معاشرے کو اپنے مکروہ دھندوں سے آلودہ کر رہی ہیں۔
آج ہمیں ان سب برائیوں کے خلاف ایک عزم مصمم سے نبرد آزما ہونا ہی ہو گا اگر پاکستان کو بچانا اور ایک خوش حال ملک بنانا ہے۔ اپنے معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام لانا ہوگا تا کہ ہماری آئندہ نسلیں ایک پر سکون زندگی بسر کر سکیں۔
دعا ہے کہ میرا پیارا مالک ہمیں ان جہالتوں اور ظلمتوں سے نجات دلائے اور خوشحالی اور امن و سکون پاکستان کا مقدر بنائے۔ آمین

Advertisements

آخر قبر میں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے


روزنامہ جنگ جیسے اخبار کی خبر دیکھئیے۔۔۔آخر ہمارے ضمیر کو ہو کیا گیا ہے؟ بی بی سی اپنی خبر پر قائم ہے اور ہمارے اخبارات جھوٹ کا پلندہ شائع کرنے سے باز ہی نہیں آتے۔ آخر کوئی تو اخلاقیات ہونی چاہئیے۔۔۔۔۔۔باطل کا ساتھ دے کر یہ لوگ کتنا مال بنا لیں گے، جانا تو آخر قبر ہی میں ہے جہاں سبھی خالی ہاتھ ہی جاتے ہیں کیا فقیر اور کیا بادشاہ۔۔۔۔۔۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔۔۔۔آمین
%d8%ac3
%d8%ac1

%d8%ac2

%d8%ac4

%d8%ac5%d8%a8

%d8%ac6%d8%a8
بی بی سی کی اپنی خبر کی صداقت پر اصرار
http://www.bbc.com/urdu/pakistan-38679048
جنگ اخبار کی خبر کا لنک
http://e.jang.com.pk/01-19-2017/karachi/pic.asp?picname=252746
بی بی سی کی اصل خبر کا لنک
http://www.bbc.com/urdu/world-38601645

شرم باقی نہیں رہی ہے۔۔


وطنِ عزیز میں صحافت کا معیار تو دن بدن گرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ دھوکہ اور فریب دینا شاید ہماری سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔ کتنے فریبی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے نقاب ہو چکے ہیں مگر لوگ ہیں کہ باز ہی نہیں آتے۔ معمولی باتوں پر بریکنگ نیوز اور اسپیشل رپورٹیں آپ سب نے ملاحظہ تو کی ہونگی۔ آج ایک نمونہ پیش خدمت ہے؛
کوئی تین سال پہلےیوٹیوب پر  ٹیکنالوجی کی ایک ٹرِک پوسٹ کی گئی تھی، اس پوسٹ  کا لنک نیچے دیا گیا ہے، پہلے اسے ملاحظہ کیجئیے اور پھر اپنے صحافیوں کے اعلیٰ صحافتی معیار کی داد دیجئیے۔ بعض چینلز پر اس خبر کی رپورٹ بھی چلائی جا چکی ہے۔
اور اس بات کی داد بھی دیجئیے کہ اب یوٹیوب کے شعبدوں کو لوگ اپنی ایجاد کہتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے اگر چہ اصل پوسٹ کوئی 3  سال پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ ایک معمولی ٹرِک کو ایک عظیم اور حیرت انگیز ایجاد قرار دینا واقعی دِل گردے اور ڈھٹائی کا کمال ہے۔ ایسی اسکرین اور ایسی عینک کیا کہنے اس ایجاد کے۔۔۔۔۔۔
ان صاحبان کو بھی داد دیجئیے جو کسی اور کے کام کو اپنی ایجادات قرار دیتے ہوئے حکومتی تحسین و معاونت اور سرپرستی کے طلب گار بھی ہیں۔
واقعی شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

youtube link:

تصویری خبر
BL-news

آج نیوز کا لنک: Aaj news link: http://urdu.aaj.tv/latest/%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%DB%8C%D9%84-%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DB%8C-%D8%8C%DA%A9%D8%A7%D9%85-%D9%86%D8%B8%D8%B1/

معیارِ صحافت


 آج دو فروری کے جنگ کراچی میں یہ خبر بہت سے لوگوں نے پڑھی ہو گی۔اول تو یہ کوئی خبر نہیں ہے کی فروری میں 29 دن ہیں۔  پھر اسے ایک خاص خبر کی شکل دینا اور ایک مخصوص نایاب صورت میں پیش کرنا۔
ایسی فضول بیشمار خبریں ہیں جو انتہائی غلط اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔
میرا مقصد تنقید صرف یہ ہے کہ آپ کچھ تحقیق تو کر لیا کریں۔
اس صحافی نے کیا تحقیق کی ہو گی؟یہ خبر صرف بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔ باقی قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔
سن 2044 کا فروری بھی سن 2016 کے فروری ہی کی طرح ہو گا۔ سن 2044 اور سن 2016 کے کیلنڈر کے عکس بھی ملاحظہ کر لیجئیے۔
اب 823 سال کے ہندسے کو دیکھئیے اور اس صحافی کی تحقیق کی داد ضرور دیجئیے۔۔۔

 

2016

2016

feb-16

feb-44

شرم تم کو مگر نہیں آتی


کل 30 جنوری 2016 کو ہمارے محترم وزیرِاعظم صاحب نے فرمایا کہ
“آلو کی قیمت 4 یا 5 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، اب حکومت اس سے زیادہ کیا قیمتیں کم کرے اور عوام کو ریلیف دے”
تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا احسان عظیم کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے تو حاتم طائی کی قبر کو بھی لات دے ماری۔ اب عوام بیچارے کیا کریں۔ خوشی سے ناچ بھی رہے ہیں اور بلند آواز میں گاتے بھی جا رہے ہیں
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی

عوام کوواقعی مر جانا چاہیئے


مفادات، ذاتی پسند نا پسند، اقرباء پروری، تعصب، ڈھٹائی اور بد عنوانی کی سیاست سمجھنی ہو تو میرے پیارے پاکستان کی سیاست کو دیکھئیے، کچھ اور رموز ِحکومت بغور سمجھنے ہو ں تو پھر سندھو ساگر کی زمین صوبہ سندھ کی سیاست کو خوردبین سے دیکھئیے۔
پچھلے ایک ہفتے سے سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سیاسی بزرچمہروں کے ہاتھ آ چکا ہے اور عوام ساری بات سمجھ چکے ہیں کہ معاملہ کیا اور کس کو بچانے کا ہے۔ مگر ایسی ڈھٹائی اور بے حسّی کا زمانہ ہے کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی
اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کا کرپشن سے کیا لینا دینا؟ ان کا کام صرف امن و امان، دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر ”یہ کرپشن میں بھی گھس گئے۔“ گویا جرائم کچھ اور ہوتے ہیں، یا دہشت گردی اور دیگر جرائم ”کرپشن“ ختم کیے بغیر نیست و نابود کیے جا سکتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ جرم کے درخت کی شاخوں کو تو کاٹ دیا جائے مگر ”جڑوں“ کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اس سادگی پر تو پاکستانی عوام کو مر ہی جانا چاہئیے۔

QAS-1

لیاقت علی خان اور سائیں سرکار


کل اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب نے انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان بغیر انتخاب لڑے وزیرِاعظم پاکستان بن گئے۔ اور یہ کہ کرپشن لیاقت علی خان کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ اور کرپشن ختم کرنے کے لیے دو سال تو بہت کم ہیں اس کے لیے تو ”عمرِنوح“ درکار ہو گی۔ مزید بھی بہت کچھ فرمایا سائیں سرکار نے۔۔۔۔۔۔ مگر افسوس صد افسوس!!!
اور یقین مانئیے کہ ایسی باتوں پر کچھ لکھنے کے لیے الفاظ ملتے ہی نہیں ۔ اخباری تراشے ملاحظہ فرمائیں ۔

QAS-1

QASکرپشن

QASکرپشن