Monthly Archives: اپریل 2011

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم


ایک دینار وہ ہے جسے تو اللہ کے راستے میں خرچ کرے اور ایک دینار وہ ہے جسے تو غلام کے آزاد کرنے میں خرچ کرے اور ایک دینار وہ ہے جسے تو مسکین پر خیرات کرے اور ایک دینار وہ ہے جسے تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے، ان سب صورتوں میں زیادہ اجر کا باعث وہ دینار ہے جو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے۔

حدیث نبویﷺ

دعا


(اللّھُمَّ اَحسِنُ عَاقِبَتَنَا فِی الاُمُورِ کُلِّھَا وَ اَجِرنَا مِن خِزیِ الدُّنیَا وَ عَذَابِ الاٰخِرَۃِ  (آمین

اے اللہ! ہمارے کام کا انجام بہتر کر اور ہم کو دنیا کی رسوائی سے اور آخرت کے عذاب سے بچا!

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم


(اللہ اس بندے کو آباد کرتا ہے جو میری بات سن کر دوسروں تک پہنچائے۔ (حدیث نبوی

پہلا قطرہ


سب متفق ہیں کہ؛

ہمارا معاشرہ زوال و انحطاط کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا جا رہا ہے۔
ہر فرد دل سے چاہتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہونا چاہئیے۔
مگر کیسے۔۔۔۔۔۔۔؟

ہر ایک سوچتا ہے کہ؛

آخر  یہ سب لوگ ٹھیک کیوں نہیں ہو جاتے؟ ان کو احساس کیوں نہیں ہوتا؟
!!!جب یہ سب ٹھیک ہو جا ئیں گے تو میں بھی ٹھیک ہو ہی جاؤں گا!
اور یہی ہماری خرابی اور پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ہے؛ اصلاح اور سدھار کے راستے کا یہ بھاری پتھر  جو کچھ بھی درست نہیں ہونے دیتا! ۔
جبکہ درستی اور سدھار کی درست ترتیب یہ ہے کہ ؛ “ میں خود کو ٹھیک کر لوں، اچھائی اور سدھار کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کروں تو یقینا دوسرے بھی ایسا کرنے پر آمادہ و راغب ہوں گے اور بارش کے پہلے قطرے کی طرح فلاح کی بارش شروع ہو سکتی ہے۔
آئیے خود سے عہد کریں کہ؛

"عروج و ترقی اور فلاح  و درستی کا آغاز میری ذات سے شروع ہونا ہے”
دوستو! پھر کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بارش کا پہلا قطرہ برسنے کو تیار ہے؟
یہ کسی اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی کے پمفلٹ کے الفاظ ہیں جو مجھے کچھ یاد رہ گئے۔

میرا گاؤں


بیٹ لدھا تحصیل      تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کا ایک موضع ہے۔ موضع تحصیل کی زمینی تقسیم کی اکائی ہے، کئی موضعے ملکر ایک تحصیل بناتے ہیں۔ یہ موضع یونین کونسل ٹبی قیصرانی میں واقع ہے۔ ٹبی قیصرانی تحصیل تونسہ کی ایک یونین کونسل ہے۔ یہاں کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ یہاں کے کسان گندم، کپاس اور چاول  وغیرہ  کاشت کرتے ہیں، جانوروں کا چارہ (برسیم، لوسن، جوار، جو اور جنتر) بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے، بڑی مارکیٹ نزدیک نہ ہونے کی وجہ سے سبزیاں بہت کم کاشت  کی جاتی ہیں۔  پھلوں کے باغ نہ ہونے کے برابر ہیں، یہاں کے لوگوں  کا باغبانی کی طرف رحجان انتہائی کم ہے۔ لیکن اب حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں اور یہاں کے لوگ باغبانی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
زیر زمین پانی نالہ مسو واہ کے مشرق میں انتہائی میٹھا ہے جبکہ مغرب کی طرف یہ کھارا ہوتا چلا جاتا ہے۔ چشمہ رائیٹ بنک کینال سے اس موضع کا بہت کم رقبہ سیراب ہوتا ہے۔ زیادہ تر کاشت ٹیوب ویل(پیٹر انجن) کے ذریعے ہوتی ہے۔
چشمہ رائیٹ بنک کینال کے آنے سے پہلے نالہ مسو واہ گرمیوں میں بہتا تھا جس سے چاول کی کاشت میں خاطر خواہ مدد ملتی تھی۔ یہاں کے لوگ ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مڈل اسکول موجود ہیں۔خواندگی ۹۰ فیصد سے زیادہ ہے۔