Monthly Archives: مئی 2011

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم


۔ جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو(کوئی منصب دار) تو اللہ اس کا مقصد پورا نہ کرے گا جب تک وہ لوگوں کی (جائز) ضروریات پوری نہ کرے۔

حدیث نبویﷺ

سود اور قرآن



جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم (274) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے (275) خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔(276)  (سورہ البقرہ 2۔ 274-276)۔

بیٹ لدھا


حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم


(ذکر الٰہی سے بڑھ کر انسان کا کوئی عمل اس کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا نہیں ۔ (حدیث نبوی