Monthly Archives: جون 2011

کیا یہ تعلیمات اور امثال ہمارے لیے نہیں ہیں؟


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے،
ومن لعن مؤمناً فهو كقتله
جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی گویا اس نے اس کو قتل کر دیا۔
صحیح بخاری ، کتاب الادب
فاتح خبیر حضرت علی مرتضیٰ کرم الله وجہہ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا، کسی کی عیب گیری نہیں کی ، کبھی کسی کی ٹوہ میں نہیں لگے، بحث ومباحثہ سے دور رہے او ربے ضرورت اور بے مطلب بات کبھی نہیں کی۔“
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کبھی آپ کسی کو برا نہیں کہتے تھے۔ اگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی موجودگی میں کبھی لوگ کسی کو برا کہتے تو حضور کو ناگوار گزرتا اور آپ ان کو سختی کے ساتھ منع فرماتے، حد یہ ہے کہ جن لوگوں نے رسول الله کے ساتھ جان بوجھ کر زیادتیاں کیں آپ نے ان کی تحقیر وتذلیل بھی گوارا نہیں کی ۔ جب آپ کو کسی مسئلہ میں دو باتوں کااختیار دیا جاتا تو آسان کو اختیار فرماتے، بشرطِ کہ اس میں گناہ کا شائبہ نہ ہو۔ کیوں کہ گناہ کے کاموں سے آپ کو سخت نفرت تھی ! کبھی اپنے ذاتی معاملے میں انتقام نہیں لیا اور کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی ، آپ کسی کی جائز درخواست کبھی رد نہیں فرماتے تھے ۔
ان ارشادات عالیہ سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان پر لعنت بھیجنا، ذلت کے ساتھ اس کا نام لینا، خامیوں کی تلاش میں اس کی ٹوہ میں لگنا۔ بحث ومباحثہ میں الجھ کر تضیع اوقات کرنا، بلاضرورت او ربے مطلب باتیں کرنا اسوہٴ حسنہ کے خلاف ہے، جو لوگ ان حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں وہ یقینا اسلامی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں  جس  سے مسلمانوں کی رسوائی ہوتی ہے او رافتراق وانتشار کی طاقتوں کو شہ ملتی ہے، خدا مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ آپس میں نفاق مت پھیلاؤ اور اتفاق واتحاد کے ساتھ رہو، تاکہ تمہارے سلوک سے خائف ہو کر تمہارے دشمن نہ تمہیں ذلیل ورسوا کر سکیں اورنہ انفرادی اور اجتماعی طور پر تمہیں نقصان پہنچا سکیں۔
جانتا ہوں سب احباب کے پاس اس کا جواب اور دلیل موجود ہو گی، پر اصل مسئلہ یہ ہے کہ روزِ جزا اس مالک و مختار کو کیا دلیل دے سکیں گے جب زبان کے علاوہ سارا جسم بولے گا؟، سوال یہ ہے کہ  ہمارا ہو گا کیا؟؟؟

حدیث مبارک


،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے ۔ اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔
ابن ماجہ۔ كتاب الفتن
باب : سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
حدیث : 4074

احسان



اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
(36سورۃ النساء :4۔)