Monthly Archives: جولائی 2011

احساسِ زیاں


ہمارے صحافی حضرات یوں تو بہت بے باک، نڈر اور بے شرمی کی حد تک صاف گو مشہور ہیں لیکن جب اربابِ اقتدار سے سیدھے سادھے سچے سوالات کرنے ہوں تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے! آپ جناب کا راگ الاپتے ہوئے یہ حق کے علم بردار حکمرانوں سے منہ در منہ کوئی عوامی سوال نہیں کر سکتے ہیں، کسی صحافی نے صدرِ پاکستان سے یہ نہیں پوچھا آپ ایوانِ صدر میں سیاسی سر گرمیاں کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، وزیرِ اعظم گیلانی سے کوئی نہیں پوچھتا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کر کے وہ کونسی جمہوریت کی خدمت کر رہے ہیں؟ کراچی کے حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ سب جانتے ہیں، ایم کیو ایم، اے این پی، پیپلز پارٹی،سندھی قوم پرست جماعتیں اور نام نہاد مذہبی پارٹیاں اس خون خرابے کی ذمہ دار ہیں، عوام
بھی انہی کا نام لیتے ہیں اور اگر کوئی نام نہیں لیتا تو صرف میڈیا نہیں لیتا، اور سارا الزام بھتہ خوروں، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور اسلحہ مافیا پر ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہیں اور پاکستانی قانون سے ماورا؟؟؟ کیا یہ تمام گروہ مذکورہ بالا جماعتوں سے تعلق نہیں رکھتے؟ اب تو رحمان ملک نے طالبان کا بھی نام لگا دیا ہے۔۔۔ کیا کوئی صحافی وزیر اعظم، صدرِ پاکستان  ،رحمان ملک یا ایم کیو ایم، اے این پی یا کسی اور سیاسی جماعت کے نمائندے سے یہ عوامی سوال کر سکتا ہے؟ کہ کراچی کے عوام کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟
انسان ہونا تو کوئی جرم نہیں مگر یہاں اب انسان ۔ مسلمان، پاکستانی ہونا ایک جرم ہے جس کی سزا موت ہے(جسکا ادنٰی نمونہ گزشتہ چند دنوں میں  کراچی میں دکھایا جا چکا ہے)۔ مہاجر، پختون، پنجابی، سرائیکی، بلوچ، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، کافر کیا سارے انسان اور آدم علیہ السلام کی اولاد نہیں ہیں؟؟؟
ہم اسلامی جمہوریہ کے باشندگان کہلاتے ہیں اور اس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں جن کے خطبہ حجتہ الوداع میں سب انسانوں کی برابری کا اعلان کیا گیا تھا، انسانوں کی برابری اور مساوات کا حکم دیا گیا تھا۔  اور مدینہ کی مسلم ریاست میں غیر مسلم کے حقوق محفوظ تھے۔ مگر ہمارا سارا معاشرہ ہی بے انصافی اور تضادات پر مشتمل ہے، ہم دوسروں کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں اور اپنے گریبانوں میں جھانکنا گوارا نہیں کرتے۔۔۔ کیا یہی اسلام اور مسلم ہونا ہے؟
اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا؛
وائے ناکامی متاعِ کاررواں جاتا رہا
کاررواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے
تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک بہتر مستقبل دے سکیں ۔
تا کہ ہمارا معاشرہ ایک نارمل معاشرہ کہلا سکے۔
تا کہ یہ ارضِ پاک گہوارہِ امن وآشتی بن سکے۔
تا کہ ہم انسان، مسلمان اور پاکستانی کہلائے جانے کے مستحق ہو سکیں۔ آمین۔ 

Advertisements

بھوک اور امن


سورہ النحل کی آیت ۱۱۲  کا ترجمہ ہے؛
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی  تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔
آج کا شہر کراچی بالخصوص اور پاکستان بالعموم  اس آیت کی عملی تفسیر ہیں، جس بد امنی اور بد حالی سے آج ہمارا معاشرہ گزر رہا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کے کفران  اور ناشکری ہی کے سبب ہے۔ ایمان کی کمزوری، اخلاقیات کی نا پیدی اور حق کی جگہ جھوٹ، دیانت کی جگہ خیانت، فرض شناسی کی جگہ کام چوری، بے غرضی کی جگہ خود غرضی، احترامِ آدمیت کی جگہ تذلیلِ انسانیت، انصاف کی جگہ بے انصافی، عدل کی جگہ ظلم، خدا ترسی کی جگہ تضحیک و تحقیر، سخاوت کی جگہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی،  یہ ساری علامات ہیں کہ ہم نے ہر نعمتِ خداوندی کو ایک صفت شیطانی سے بدل لیا ہے، ہم علم اور معلم کو عزت نہیں دیتے بلکی پیسے اور طاقت کو سلام کرتے ہیں، خیانت اور کرپشن ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کے لیے ہر چیز چاہیئے ، اجماعی مفاد گیا بھاڑ میں، میرا پیٹ بھرنا چاہیئے چاہے پڑوسی اور رشتہ دار
بھوکے ہی کیوں نا مر جائیں! اور  ہم کانٹوں کی فصل بو کر پھولوں اور خوشبو کے طلبگار ہیں۔
مگر اللہ کا کلام سچا ہے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرانے کا انجام یہی ہے، واحد حل توبہ اور اپنے کردار کی اصلاح ہے، دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، اللہ تعالٰی ہم سب کو اصلاح احوال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔