بھوک اور امن

سورہ النحل کی آیت ۱۱۲  کا ترجمہ ہے؛
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی  تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔
آج کا شہر کراچی بالخصوص اور پاکستان بالعموم  اس آیت کی عملی تفسیر ہیں، جس بد امنی اور بد حالی سے آج ہمارا معاشرہ گزر رہا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کے کفران  اور ناشکری ہی کے سبب ہے۔ ایمان کی کمزوری، اخلاقیات کی نا پیدی اور حق کی جگہ جھوٹ، دیانت کی جگہ خیانت، فرض شناسی کی جگہ کام چوری، بے غرضی کی جگہ خود غرضی، احترامِ آدمیت کی جگہ تذلیلِ انسانیت، انصاف کی جگہ بے انصافی، عدل کی جگہ ظلم، خدا ترسی کی جگہ تضحیک و تحقیر، سخاوت کی جگہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی،  یہ ساری علامات ہیں کہ ہم نے ہر نعمتِ خداوندی کو ایک صفت شیطانی سے بدل لیا ہے، ہم علم اور معلم کو عزت نہیں دیتے بلکی پیسے اور طاقت کو سلام کرتے ہیں، خیانت اور کرپشن ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کے لیے ہر چیز چاہیئے ، اجماعی مفاد گیا بھاڑ میں، میرا پیٹ بھرنا چاہیئے چاہے پڑوسی اور رشتہ دار
بھوکے ہی کیوں نا مر جائیں! اور  ہم کانٹوں کی فصل بو کر پھولوں اور خوشبو کے طلبگار ہیں۔
مگر اللہ کا کلام سچا ہے اور اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرانے کا انجام یہی ہے، واحد حل توبہ اور اپنے کردار کی اصلاح ہے، دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، اللہ تعالٰی ہم سب کو اصلاح احوال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: