Monthly Archives: مئی 2012

میرے گاؤں کے کچھ دلکش مناظر


میرے گاؤں (بیٹ لدھا چاہ عثمان والا) کی کچھ تصاویر
یہ موسم یہ مست نظارے
پیار کرو توان سے کرو

Advertisements

جراحی


آج کا پاکستان: پاکستانی معاشرہ ایک بیمار معاشرہ بن چکا ہے۔ اس معاشرے کو اخلاقی بیماریوں نے لاغر اور قریب المرگ کر دیا ہے، اس معاشرے کی جراحی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا ہے کہ ایک بے رحم جراح اس انتہائی متعفن مریض کے لیے اشد ضروری ہو چکا ہے۔ ایک ایسا آپریشن درکار ہے جو اس جسم کے مردہ اور ناکارہ ہو جانے والے اعضاء کو بے دردی کے ساتھ جسم سے الگ کردے، جو اس جسم میں پرورش پانے والے خطرناک طفیلیوں کو اس جسم سے نکال باہر پھینکے، اس جسم کے ناسور بنے حصوں کو مریض کی مکمل بحالی کے لیے، اس مریض کی شفایابی کے لیے جسم سے الگ کر دے۔ اخلاقی انحطاط کی جس پستی میں ہم پہنچ چکے ہیں وہاں تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ مجرم اور سزایافتہ ہمارے حکمران بنے بیٹھے ہیں، اور اپنے دوامِ اقتدار کے لیے کیا کیا تاویلیں اور دلیلیں گھڑ رہے ہیں جن کو سن کر ہنسی(یا شاید بے بسی کا رونا) روکے نہیں رکتی۔
ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کا حال یہ ہے کی تمام جماعتیں جمہوریت کی چیمپیئن کہلاتی ہیں مگر کوئی جماعت اپنے عہدے داروں کے لیے جماعت کے اندر انتخابات نہیں کرا تی۔ جماعتیں گدیاں اور وراثتیں بن گئیں ہیں۔ بھٹو کی پارٹی کا صدر تا حیات بھٹو ہی ہو گا(یا شاید بھٹو کے نقاب میں زرداری ہو گا)۔ شریف خاندان ہی ایک پارٹی کا تا حیات مالک ہو گا۔ ولی خان کی اولاد ہی ان کی جماعت کی وارث ہو گی۔ دکھاوے کے پارٹی الیکشن اور پھر وہی خاندانی وارث۔
کچھ عرصہ پیشتر ایک پارٹی ایک آمر کو باوردی صدر منتخب کرنے پر مُصر تھی، آج وہی پارٹی جمہوریت کا نعرہ سب سے پہلے لگاتی ہے۔ ایک پارٹی ہر حکومت میں شامل ہے اور دھونس اور دھمکیوں سے اپنی شرائط ہر صورت منواتی رہتی ہے۔ ایک تیسری پارٹی مذہب کا نام لے کر ہر حکومت کو بصورت بیساکھی اپنا سہارا دینے کا فن یوں خوبی سے نبھاتی ہے کہ اس کی سیاست پر عوام و خواص عش عش کر اُٹھتے ہیں۔
وقت اس جراحی کا متقاضی ہے۔ یہ مریض مزید کسی سستی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔ بظاہر عوام ہی ان کو منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ آج کے مسائل کا فقط ایک ہی حل ہے کہ ایک بے رحم احتساب جو جنگی بنیاد پر ہر مجرم کو قرار واقعی سزا دےکر اپنے منطقی انجام تک پہنچائے۔ اس ملک کے مخلص دردمند شہری میری طرح صرف کڑھ ہی پاتے ہیں، کوئی مسیحا اور نجات دہندہ نظر نہیں آتا۔ اے خدا اس ملک کی حفاظت فرما اور اسے مخلص عوام اور بے غرض حکمران عطا فرما۔ آمین

سیلاب 2010


سال 2010 کے سیلاب سے ہمارے گھر کس طرح نیست و نابود ہوئے۔ سیلاب سے ہمارا گاؤں اور آس پاس کے بیشتر علاقے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ سیلاب سے پہلے اور سیلاب کے بعد کی کچھ تصاویر حاضر ہیں۔

سیلاب سے پہلے
200920090742009200907726122009428N78 786N82-Image1086N82-Image1878

N82-Image2019
N82-Image2077

اور سیلاب کے بعد
ہر طرف تباہی اور پانی۔
1509201001915092010022150920100261509201003015092010032150920100391509201004315092010048150920100491509201006515092010071160920100981609201010516092010112160920101142009201045322092010562

ہرے بھرے آم، امرود، مالٹے اور دوسرے پھلدار درخت سوکھ گئے، کپاس اور دوسری کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

ژالہ باری


ہمارے گاؤں میں بہت زوردار ژالہ باری ہوئی۔۔۔ یہ بگلا ایک اولے کا شکار ہو گیا۔ یہ اولہ گولی کی طرح اس کے دل تک پہنچا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔۔اولوں/ژالوں کی جسامت اور حجم کا اندازہ بھی کر لیجییے اگرچہ اس بگلے کو ایک نسبتا کم حجم  اولے نے مار ڈالا۔
<

N82-Image2961 N82-Image2962 N82-Image2966 N82-Image2968 N82-Image2971

N82-Image2994 N82-Image2995 N82-Image2999

فریاد


اقبال رحمت اللہ علیہ کی  یہ نظم مجھے بہت پسند ہے، آپ بھی محظوظ ہوں؛
اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مري فرياد
نہيں ہے داد کا طالب يہ بندۂ آزاد
بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
سينوں ميں اجالا کر، دل صورت مينا دے
يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے
محروم تماشا   کو پھر ديدۂ   بينا   دے
ديکھا ہے جو کچھ ميں نے اوروں کو بھي دکھلا دے
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
پيدا دل ِويراں ميں پھر شورَشِ محشر کر
اس محمل ِخالي کو پھر شاہد ليلٰی دے
اس دور کي ظلمت ميں ہر قلب پريشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے
رفعت ميں مقاصد کو ہمدوش ثریّا کر
خوددارئ ساحل دے، آزادئ دريا دے
بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
سينوں ميں اجالا کر، دل صورت ِمينا دے
احساس عنايت کر آثار مصيبت کا
امروز کي شورش ميں انديشہء فردا دے
ميں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثير کا سائل ہوں ، محتاج کو   داتا دے

Lightening struck this Date Tree!!!


آسمانی بجلی نے کھجور کے اس درخت کا یہ حال کر دیا!

220520110442205201104522052011046220520110472205201104822052011049220520110502205201105122052011052220520110532205201105422052011055220520110562205201105722052011058

سوچئیے


پاکستان میں بجلی کا بحران کچھ یوں موجود ہے کہ فی الحال اس سے نجات ممکن نظر نہیں آتی! لیکن جہاں بجلی کی موجودہ ضرورت تقریبا 14000 میگا واٹ ہے، اور کمی 2 سے 4 ہزار میگا واٹ ہے تو کوئی مجھ نادان کو بتلائے کہ زیادہ سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 سے 6 گھنٹے ہونا چاہیئے یہ دورانیہ 12 یا 16 یا 18 گھنٹے کس حساب سے ہو جاتا ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کس فارمولے کے تحت 50 فیصد سے زائد لوڈ شیڈنگ کر رہی ہیں؟ کیا یہ صورتِ حال بجلی کی کمی کی بجائے بد انتظامی کی اعلیٰ مثال نہیں ہے؟
ہمارے زیادہ تر مسائل میں یہی بد انتظامی بدرجہء اتم موجود ہے جو مسائل کو پیچیدہ، گھمبیر اور اتنا مشکل بنا دیتی ہے کہ پھر بظاہر ان کا حل نا ممکن دکھائی دیتا ہے، پانی کی تقسیم، بجلی کی پیداوار اور تقسیم ہو یا سیلابی پانی پر کنٹرول کا معاملہ ہو، ان سب مسائل کی بنیادی وجہ نا اہل اور بد انتظام اہل کار ہیں جو ان مسائل کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتے، سفارش ، پرچی، رشوت یا سیاسی بنیادوں پر بھرتی شدہ یہ نا اہل افراد جو حکومت کے کَل پُرزے کہلاتے ہیں، اس حکومتی مشین کے سب سے ناکارہ اور بےکار پُرزے ہیں، ملک پاکستان کی مشین کو رواں دواں رکھنا اور قوموں کی صفوں میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنانا ہے تو پھر ان بیکار پرزوں کو بدلنا ہو گا