سوچئیے

پاکستان میں بجلی کا بحران کچھ یوں موجود ہے کہ فی الحال اس سے نجات ممکن نظر نہیں آتی! لیکن جہاں بجلی کی موجودہ ضرورت تقریبا 14000 میگا واٹ ہے، اور کمی 2 سے 4 ہزار میگا واٹ ہے تو کوئی مجھ نادان کو بتلائے کہ زیادہ سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 سے 6 گھنٹے ہونا چاہیئے یہ دورانیہ 12 یا 16 یا 18 گھنٹے کس حساب سے ہو جاتا ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کس فارمولے کے تحت 50 فیصد سے زائد لوڈ شیڈنگ کر رہی ہیں؟ کیا یہ صورتِ حال بجلی کی کمی کی بجائے بد انتظامی کی اعلیٰ مثال نہیں ہے؟
ہمارے زیادہ تر مسائل میں یہی بد انتظامی بدرجہء اتم موجود ہے جو مسائل کو پیچیدہ، گھمبیر اور اتنا مشکل بنا دیتی ہے کہ پھر بظاہر ان کا حل نا ممکن دکھائی دیتا ہے، پانی کی تقسیم، بجلی کی پیداوار اور تقسیم ہو یا سیلابی پانی پر کنٹرول کا معاملہ ہو، ان سب مسائل کی بنیادی وجہ نا اہل اور بد انتظام اہل کار ہیں جو ان مسائل کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہوتے، سفارش ، پرچی، رشوت یا سیاسی بنیادوں پر بھرتی شدہ یہ نا اہل افراد جو حکومت کے کَل پُرزے کہلاتے ہیں، اس حکومتی مشین کے سب سے ناکارہ اور بےکار پُرزے ہیں، ملک پاکستان کی مشین کو رواں دواں رکھنا اور قوموں کی صفوں میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنانا ہے تو پھر ان بیکار پرزوں کو بدلنا ہو گا

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: