ٹھیکہ

کیا خیال ہے؟ اب صفائی اور پارکنگ کے بعد پولیس اور وزارت داخلہ کو بھی ٹھیکے پر نہ دے دیا جائے؟ جب ہم صفائی نصف ایمان ہوتے ہوئے بھی اپنے محلوں ، گلیوں اور شہروں کو صاف نہیں رکھ سکتے،اور بیرونی دنیا کے محتاج ہیں!!! تو پھر پورا ملک ہی ٹھیکے پر دے دینا چاہئے۔ہمارے حکمرانوں کےلیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہمارے حکمران کون سے ہمارے اپنے ہیں،   ان کے اثاثے ، سرمایہ اور اولادیں، ان کے شاندار محلات، کاروبار، اربوں مالیت کے فلیٹس  دوسرے ممالک میں ہیں، ان کے پاس دوہری اور تہری شہریت موجود ہے، اصلا یہ  غیر ملکی ہی ہیں جو اس ملک پر ٹھیکہ داری کر رہے ہیں۔ اللہ پاک اس ملک کو ان ٹھیکہ داروں سے بچائے۔

(ہمارے حکمرانوں کو ملک کو ٹھیکہ پر دینے کے لیے پپرا قوانین کو ہر گز نظر انداز نہ کرنا چاہئیے)

http://jang.com.pk/jang/jan2014-daily/25-01-2014/u8662.htm

Advertisements

Tagged: , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: