Monthly Archives: مارچ 2014

رپورٹ طلب کر لی


وزیرِ اعظم نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ۔ فلاں وزیر ، مشیر، افسر اور حکمران نے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ۔ وزیرِ داخلہ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔
ایسے جملے آپ روزانہ میڈیا میں پڑھتے ہونگے۔ ہر گھر کا نظام ایک مربوط فہم اور فراست سے چلایا جاتا ہے، بچے، بیوی اور شوہر ایک طے شدہ نظام (ان کہے)کے تحت ایک دوسرے کے حقوق اور اپنے اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیتے ہیں تو ایک خوش و خرم گھرانہ بنتا ہے۔ اگر گھر کے سب افراد یا کوئی ایک بھی اس میں خلل انداز ہو تو پھر گھر جھگڑے اور بے سکونی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر ادارے یا ملک کا نظام بھی کسی قاعدے اور قانون کے تحت چلتا ہے۔ ہر عہدے دار کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو وہ اگر بروقت اور درست انجام نہ دے تو پھر ادارے یا ملک کا نظام ابتری اور زوال اور بالآخر تباہی پر منتج ہو تا ہے۔مثلاً ایک اسکول میں چپڑاسی سے لیکر پرنسپل تک سب کی مقررہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، چپڑاسی کا کام پرنسپل اور پرنسپل کا کام چپڑاسی نہیں کر سکتا۔ استاد کو تدریس اور طلباء کی رپورٹ پرنسپل کو دینی ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح پرنسپل کا کام ہے کہ وہ نہ صرف اسکول کی تعلیمی ترقی کا ذمہ دار ہے بلکہ اسکول کی عمارت اور سازوسامان کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان مسائل اور وسائل کا جائزہ لیتا ہے۔ کسی شے کی کمی یا کسی مسئلے کی نشاندہی اور اس پر کارروائی کلی طور پر اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ مستقبل کی ضروریات کا ادراک اور ان کو پورا کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی مجموعی کامیابی یا ناکامی اسی کی ناموری یا بدنامی ہے۔
ہمارے ملک کا یہ حال ہو گیا ہے کہ آئی جی کسی واقعے کی رپورٹ مانگ رہا ہوتا ہے کسی ایس پی سے، ایس ایچ او سے گویا اس متعلقہ افسر کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے افسرِ اعلیٰ کو روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات سے آگاہ کرے۔ اور نہ ہی افسرِ اعلیٰ کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے محکمے کی کارکردگی سے بخوبی واقف ہو۔ یا اس نے کسی غیر متعلقہ کو رپورٹ دینی ہو۔ وزیر، سیکرٹری، وزیرِاعلیٰ اور وزیرِاعظم سبھی کا یہی تماشا لگا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے جاگے، رپورٹ طلب کی اور پھر سو گئے، جس وزیر کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی وزارت میں کیا ہو رہا ہے تو اسے گھر بیٹھنا چاہیئے۔ اسی طرح باقی عہدے داروں کو بھی ۔ جب اپنے فرائض کا احساس ہی کسی کو نہیں ہے تو پھر مسائل کیسے حل ہوں گے؟ ہر محکمے میں افسروں اور نوکرِ شاہی کی بھرمار ہے مگر کسی کو اپنے کام سے کام نہیں ہے۔ "رپورٹ” طلب کرنا ایک فیشن اور میڈیا سٹنٹ بن چکا ہے۔ رپورٹ اور انکوائری کسی معاملے کو ٹالنا اور اپنی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اگر اس ملک کو ترقی دینی ہے تو یہ رپورٹ کلچر ختم کرنا ہی ہو گا۔ کسی واقعے کی فوری رپورٹ ایک خودکار نظام کے تحت متعلقہ شعبے/محکمے کے اعلیٰ ترین ذمہ دار تک پہنچنی چاہیئے۔
یہ رپورٹ اور انکوائری کا مذاق اب بند کر دینا چاہیئے۔ اس قوم سے بہت مذاق ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے۔
کاش ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے اور اپنی روزی حلال کرتے ، کاش۔۔۔

نوٹس


ہم روز دیکھتے ہیں کہ کسی حادثے یا سانحے کے بعد میڈیا (الیکٹرانک اور پرنٹ) میں اس قسم کی خبریں جلی الفاظ میں شائع ہوتی ہیں۔


یہ خبریں پڑھ کر آپ کو کیا لگتا ہے؟ کہ کسی مطلق العنان بادشاہ نے اپنی رعایا کے مصائب پر ایک نظرِکرم ڈال کر عوام پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔  عوام کی حالت پر ترس کھا کرعوام کو "نوٹس” کی بھیک ڈالی ہے۔ کچھ لوگ اس نوٹس کو "نو                                      ٹَس مَس”  بھی کہتے ہیں ۔ ہر واقعے کا نوٹس لے لیا اور ذمہ داری پوری ہو گئی۔ ایسے حالات  اور انتظامات کیوں نہیں کئے جاتے کہ ان سانحات سے بچا جا سکے۔  کسی نوٹس کے بعد اُس واقعے کا فالو اپ کتنا ہوتا ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ کیا کسی مہذب معاشرے میں ایسے ہوتا ہے؟
کیا  ان عوامی خدام کا  یہ اوّلین  فرض نہیں ہے کہ انہیں اپنے متعلقہ شعبے، صوبے کے ہر مسئلے کا علم ہونا چاہیئے۔ ان "نوٹس” لینے والے حکمرانوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے۔ صحافت کو بھی اس نوٹس کی خبر کو ایک معمول کی خبر سمجھنا ہو گا۔ یہ عوام کے ساتھ زیادتی اور ظلم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب ایک حکمران کو اپنے ملک میں ہونے والے واقعات سے صرف "نوٹس” کی حد تک تعلق ہو تو پھر آپ جانوروں پر بھی حکمرانی کے لائق نہیں چہ جائیکہ انسان۔ ایک گڈرئیا بھی اپنے ریوڑ کے ہر جانور کے دکھ درد، بیماری اور بھوک پیاس کو خوب جانتا ہے، اور بر وقت ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اور یہاں اشرف المخلوقات کے بھیس میں چھپے بھیڑئیے اور جانور انسانوں سے بد ترین سلوک کے مرتکب ہیں۔اب تو نوٹس کا لفظ سن کر اُبکائی آ جاتی ہے۔سیاست ترقی یافتہ اور با شعور تعلیم یافتہ معاشروں میں خدمت کا دوسرا نام ہوتی ہے مگر ہمارے اس نا خواندہ وحشی اور جہل سے بھرپور معاشرے میں سیاست کاروبار اور ایک گالی بن کر رہ گئی ہے۔  آپ سب اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ ضرور بتائیں۔

احساس


پاکستان میں روزانہ کئی قیمتی جانیں ٹریفک حادثات کے باعث پیوندِ زمین ہو جاتی ہیں۔ اور کئی خاندان زندہ در گور ہو جاتے ہیں۔ ان حادثات کی درجنوں وجوہات ہیں۔ آج صرف ایک وجہ کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
آپ میں سے اکثر قارئین نے سڑکوں کے کنارے اور بعض اوقات سڑک کے درمیان ہی گاڑیوں کو اسطرح کھڑے دیکھا ہو گا کہ ان کے اطراف پتھر اور اینٹیں وغیرہ رکھی ہوتی ہیں، یہ گاڑیاں پنکچر یا خراب ہو ئی ہوتی ہیں اور دوسری گاڑیوں کو خبردار کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔
اب المیہ یہ ہے کہ گاڑی ٹھیک ہونے کے بعد یہ پتھر اور اینٹیں بڑی تعداد میں وہیں پڑی رہ جاتی ہیں، ڈرائیوروں کی اکثریت ان کو سڑک سے ہٹا دیتی ہے مگر کچھ غیر ذمہ دار اور نا عاقبت اندیش افراد ایسا نہیں کرتے۔ اور یہ ملبہ دوسری گاڑیوں کے لیے حادثات کا موجب بنتا ہے۔ اور یہ حادثات قیمتی جانوں کے زیاں کا سبب بنتے ہیں۔
میری تمام پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ اگر کبھی آپ ایسا ہوتا دیکھیں یا آپ خود یہ پتھر اور اینٹیں وغیرہ گاڑی کے لیے استعمال کریں تو پھر ان کو سڑک سے دور ہٹا ضرور دیں۔ اپنے بلاگرز سے استدعا ہے کہ ہر بلاگر کم از کم ایک پوسٹ ٹریفک حادثات کی وجوہات پر ضرور لکھے کہ شاید کسی کو عقل آ جائے اور کوئی قیمتی جان بچ جائے۔
ِِِ