نوٹس

ہم روز دیکھتے ہیں کہ کسی حادثے یا سانحے کے بعد میڈیا (الیکٹرانک اور پرنٹ) میں اس قسم کی خبریں جلی الفاظ میں شائع ہوتی ہیں۔


یہ خبریں پڑھ کر آپ کو کیا لگتا ہے؟ کہ کسی مطلق العنان بادشاہ نے اپنی رعایا کے مصائب پر ایک نظرِکرم ڈال کر عوام پر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔  عوام کی حالت پر ترس کھا کرعوام کو "نوٹس” کی بھیک ڈالی ہے۔ کچھ لوگ اس نوٹس کو "نو                                      ٹَس مَس”  بھی کہتے ہیں ۔ ہر واقعے کا نوٹس لے لیا اور ذمہ داری پوری ہو گئی۔ ایسے حالات  اور انتظامات کیوں نہیں کئے جاتے کہ ان سانحات سے بچا جا سکے۔  کسی نوٹس کے بعد اُس واقعے کا فالو اپ کتنا ہوتا ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ کیا کسی مہذب معاشرے میں ایسے ہوتا ہے؟
کیا  ان عوامی خدام کا  یہ اوّلین  فرض نہیں ہے کہ انہیں اپنے متعلقہ شعبے، صوبے کے ہر مسئلے کا علم ہونا چاہیئے۔ ان "نوٹس” لینے والے حکمرانوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے۔ صحافت کو بھی اس نوٹس کی خبر کو ایک معمول کی خبر سمجھنا ہو گا۔ یہ عوام کے ساتھ زیادتی اور ظلم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب ایک حکمران کو اپنے ملک میں ہونے والے واقعات سے صرف "نوٹس” کی حد تک تعلق ہو تو پھر آپ جانوروں پر بھی حکمرانی کے لائق نہیں چہ جائیکہ انسان۔ ایک گڈرئیا بھی اپنے ریوڑ کے ہر جانور کے دکھ درد، بیماری اور بھوک پیاس کو خوب جانتا ہے، اور بر وقت ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اور یہاں اشرف المخلوقات کے بھیس میں چھپے بھیڑئیے اور جانور انسانوں سے بد ترین سلوک کے مرتکب ہیں۔اب تو نوٹس کا لفظ سن کر اُبکائی آ جاتی ہے۔سیاست ترقی یافتہ اور با شعور تعلیم یافتہ معاشروں میں خدمت کا دوسرا نام ہوتی ہے مگر ہمارے اس نا خواندہ وحشی اور جہل سے بھرپور معاشرے میں سیاست کاروبار اور ایک گالی بن کر رہ گئی ہے۔  آپ سب اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ ضرور بتائیں۔

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: