رپورٹ طلب کر لی

وزیرِ اعظم نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ۔ فلاں وزیر ، مشیر، افسر اور حکمران نے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ۔ وزیرِ داخلہ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔
ایسے جملے آپ روزانہ میڈیا میں پڑھتے ہونگے۔ ہر گھر کا نظام ایک مربوط فہم اور فراست سے چلایا جاتا ہے، بچے، بیوی اور شوہر ایک طے شدہ نظام (ان کہے)کے تحت ایک دوسرے کے حقوق اور اپنے اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیتے ہیں تو ایک خوش و خرم گھرانہ بنتا ہے۔ اگر گھر کے سب افراد یا کوئی ایک بھی اس میں خلل انداز ہو تو پھر گھر جھگڑے اور بے سکونی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر ادارے یا ملک کا نظام بھی کسی قاعدے اور قانون کے تحت چلتا ہے۔ ہر عہدے دار کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو وہ اگر بروقت اور درست انجام نہ دے تو پھر ادارے یا ملک کا نظام ابتری اور زوال اور بالآخر تباہی پر منتج ہو تا ہے۔مثلاً ایک اسکول میں چپڑاسی سے لیکر پرنسپل تک سب کی مقررہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، چپڑاسی کا کام پرنسپل اور پرنسپل کا کام چپڑاسی نہیں کر سکتا۔ استاد کو تدریس اور طلباء کی رپورٹ پرنسپل کو دینی ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح پرنسپل کا کام ہے کہ وہ نہ صرف اسکول کی تعلیمی ترقی کا ذمہ دار ہے بلکہ اسکول کی عمارت اور سازوسامان کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان مسائل اور وسائل کا جائزہ لیتا ہے۔ کسی شے کی کمی یا کسی مسئلے کی نشاندہی اور اس پر کارروائی کلی طور پر اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ مستقبل کی ضروریات کا ادراک اور ان کو پورا کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اسکول کی مجموعی کامیابی یا ناکامی اسی کی ناموری یا بدنامی ہے۔
ہمارے ملک کا یہ حال ہو گیا ہے کہ آئی جی کسی واقعے کی رپورٹ مانگ رہا ہوتا ہے کسی ایس پی سے، ایس ایچ او سے گویا اس متعلقہ افسر کا یہ کام ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے افسرِ اعلیٰ کو روزانہ کی بنیاد پر حالات و واقعات سے آگاہ کرے۔ اور نہ ہی افسرِ اعلیٰ کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے محکمے کی کارکردگی سے بخوبی واقف ہو۔ یا اس نے کسی غیر متعلقہ کو رپورٹ دینی ہو۔ وزیر، سیکرٹری، وزیرِاعلیٰ اور وزیرِاعظم سبھی کا یہی تماشا لگا ہوا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے جاگے، رپورٹ طلب کی اور پھر سو گئے، جس وزیر کو یہ نہیں پتہ کہ اس کی وزارت میں کیا ہو رہا ہے تو اسے گھر بیٹھنا چاہیئے۔ اسی طرح باقی عہدے داروں کو بھی ۔ جب اپنے فرائض کا احساس ہی کسی کو نہیں ہے تو پھر مسائل کیسے حل ہوں گے؟ ہر محکمے میں افسروں اور نوکرِ شاہی کی بھرمار ہے مگر کسی کو اپنے کام سے کام نہیں ہے۔ "رپورٹ” طلب کرنا ایک فیشن اور میڈیا سٹنٹ بن چکا ہے۔ رپورٹ اور انکوائری کسی معاملے کو ٹالنا اور اپنی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اگر اس ملک کو ترقی دینی ہے تو یہ رپورٹ کلچر ختم کرنا ہی ہو گا۔ کسی واقعے کی فوری رپورٹ ایک خودکار نظام کے تحت متعلقہ شعبے/محکمے کے اعلیٰ ترین ذمہ دار تک پہنچنی چاہیئے۔
یہ رپورٹ اور انکوائری کا مذاق اب بند کر دینا چاہیئے۔ اس قوم سے بہت مذاق ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے۔
کاش ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے اور اپنی روزی حلال کرتے ، کاش۔۔۔

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: