Monthly Archives: اپریل 2014

دوہرے معیار


قارئین کو یاد ہو گا کہ پچھلے دنوں سابق برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن پاکستان تشریف لائے تھے، جناب کا سارا زور کم عمری کی شادیوں کے خلاف تھا۔ کہ ہم ایسی شادیوں کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
اب اس خبر کو بلا تبصرہ پیش کر رہا ہوں۔
http://jang.com.pk/jang/apr2014-daily/16-04-2014/u16433.htm
jng news

Advertisements

یہی اصل جہالت ہے


مشہور جرمن شاعر، ڈرامہ نگار اور تھئیٹر پیشکار برٹولٹ بریشٹ  کے درج ذیل الفاظ ملاحظہ کیجیئے؛ (ترجمہ) ۔
سب جاہلوں میں سے بد ترین جاہل سیاسی جاہل ہوتا ہے۔ وہ کچھ نہیں سنتا، کچھ نہیں دیکھتا، وہ سیاسی سر گرمی میں کوئی حصہ نہیں لیتا۔ وہ نہیں جانتاکہ زندہ رہنے کی قیمت، روز مرہ اشیاءکی قیمتیں،آٹے کی قیمت، دالوں کی قیمت، کرائے اور دواؤں کی قیمت سب کا انحصار سیاسی فیصلوں پر ہوتا ہے۔ وہ سیاست سے اپنی لا علمی کا اور نفرت کااظہار بہت پر زور اور سینہ تان کر کرتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی سیاست سے اس بچگانہ رویے اور بیزاری سے معاشرے میں طوائف جنم لیتی ہے، بچے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیے جاتے ہیں، چور اور ڈاکو جنم لیتے ہیں اور سب سے بد ترین نتیجہ بد عنوان حکام ہیں جو  ہر طرح کے جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔
کتنی بڑی حقیقت کو کوزے میں بند کر دیا اس شاعر نے!         ۔ ۔  ۔
یہ الفاظ ہمارے معاشرے کی خوب عکاسی کرتے ہیں۔ آج کتنے ہی افراد سیاست کو کوستے ہیں مگر انتخابات کے وقت اپنا ووٹ جان بوجھ کر نہیں ڈالتے۔ ان ووٹ نہ ڈالنے والوں کی تعداد ووٹ ڈالنے والوں سے بہت زیادہ ہے جو یقیناً ایماندار اور مخلص لوگوں کو آگے آنے سے روکے رکھتی ہے۔ کاش یہ سارے ووٹ نہ ڈالنے والے اپنا قیمتی ووٹ کسی اہل حقدار کو ڈالتے تو ہم پر یہ وراثتی حکمران مسلط نہ ہو پاتے۔

 

یاد گار امتحان



شام سے ہلکی بارش ہو رہی تھی،  بادل خوب جمے ہوئے تھے اور رات 10 بجے تک بارش کافی تیز ہو چکی تھی ۔ میرے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ امتحان دینے کیسے جائیں گے؟ رات بھر عجیب عجیب خواب دیکھتا رہا۔
یہ 17 مارچ 1986 کی صبح تھی، آج میرا پانچویں جماعت کا سالانہ امتحان تھا۔ امتحانی سینٹر ٹبی قیصرانی کے مڈل اسکول میں پڑا تھا جو ہمارے گھر سے 6 کلو میٹر دور تھا۔ برستی بارش میں ننگے پاؤں  1 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپنے اسکول( گورنمنٹ مڈل اسکول بیٹ لدھا) پہنچا۔ سارے بچے اور ہمارے استاد جناب غلام رسول خان قیصرانی(پروفیسرصاحب) اسکول آچکے تھے۔ اس وقت  ہمارے اسکول سے ٹبی قیصرانی تک کوئی پختہ سڑک مو جود نہیں تھی، ایک بند نما کچا راستہ تھا جو بارشوں میں قابلِ استعمال نہیں رہتا تھا، پورا راستہ جھاڑیوں اور کیکروں سے بھراپڑا تھا۔ راستہ بہت دشوار گزار تھا۔ مگر پانچویں جماعت کے سارے بچے پُر جوش تھے۔ ہر بچے کا چہرہ اندرونی جوش سے دمک رہا تھا اور آنکھوں میں عجیب چمک ان کے عزم اور حوصلے کا پتہ دیتی تھی۔بالآخر پوری جماعت اپنے استادِ محترم کے ساتھ برستی بارش میں عازمِ سفر ہوئی۔ رات کی بارش نے ہر طرف جل تھل کیا ہوا تھااور کیچڑ میں چلنا دشوار ہو رہا تھا۔سارا راستہ دلدل بنا ہوا تھا۔گھٹنوں تک کیچڑ اور پانی میں بعض اوقات استاد صاحب کو کسی بچے کو کھینچ کے نکالنا پڑتا تھا۔ پولیتھین میں لپٹی کتابیں اور اپنے ننھے وجود کو کیچڑ میں کھینچنا ایک عجیب تجربہ تھا۔ کئی دفعہ پھسل کے زمیں بوس ہوئے مگر حوصلے جواں ہی رہے۔ ہماری تکلیف اور مشکل کا پتہ صرف ان  لوگوں کو ہو گا جنہوں نے  برستی بارش میں کیچڑ میں پیدل سفر کیا ہو۔ اسکول پہنچنے تک ہماری حالت بہت بری ہو چکی تھی، بارش کی وجہ سے سردی بڑھ گئی تھی۔ ٹھیک 8 بجے امتحان شروع ہوا۔ 5  پیپرز( اردو، ریاضی، اسلامیات، معاشرتی علوم اور سائنس) کا امتحان ہونا تھااور ہر پیپر کے درمیان 10 منٹ کا وقفہ تھا۔کپکپاتے اور تھرتھراتے ہوئے پرچے پر پرچے حل کرتے رہے۔امتحان کے بعد جو چائے پی وہ زندگی کی یادگار ترین چائے بن گئی۔
یہ امتحان میری زندگی کا بہت یادگار امتحان ہے۔اس امتحان نے زندگی کی مشکلات کو جھیلنا اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سکھا دیا۔ پنجاب میں پانچویں کے امتحانات بورڈ کی طرف سے لیے جاتے ہیں اور سنٹر کے امتحانات کہلاتے ہیں۔اس زمانے میں امتحانات ملتوی کرنے کا فیشن نہیں تھا اور مقررہ تاریخ پر امتحان لے لیے جاتے تھے۔