Monthly Archives: مارچ 2015

محفوظ سفر اور حادثات سے بچاؤ-1


پاکستان میں ٹریفک حادثات بہت زیادہ ہوتے ہیں، ہر دوسرا شخص کسی نا کسی روڈ حادثے سے متاثر ہوتا ہے یا ایسے کسی حادثے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتا ہے۔ پاکستان میں حادثات کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ ان حادثات میں انتہائی قیمتی انسان نا گہانی اموات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ حادثات انسانی المیئے ہیں۔
ان حادثات کی وجوہات میں سے کچھ درج ذیل ہیں؛
۔ڈرائیور حضرات کا ٹریفک قوانین سے لا علم ہونا
۔ ٹریفک قوانین کی عدم تدریس
۔ ٹریفک قوانین کا عدم نفاذ
۔   سڑکوں کی مخدوش حالت
۔  مہلک حادثات کے ذمہ داران کی عدم گرفتاری یا سزا سے بچنا
۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں بد عنوانی(کرپشن)۔
۔ گاڑیوں کی عمومی صحت سے لا علمی
۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفیکیٹ کے اجراء میں کرپشن۔
۔ پیدل چلنے والوں کا ٹریفک قوانین سے لاعلم ہونا
۔ حکومتی محکموں میں کرپشن۔
۔ عمومی شعور کی کمی(اجتماعی بے حسی)۔
اگر آپ ان وجوہات پر غور کریں تو ایک بات تو واضح ہے کہ بحیثیت قوم ہم میں اجتماعی شعور کی سخت کمی ہے۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم انسان سے زیادہ اس بندر کی طرح ہو جاتے ہیں جس کے ہاتھ کوئی استرا آ گیا ہو۔
ان حادثات سے بچاؤ ممکن ہے لیکن اس کے لیے درج بالا وجوہات کو مدِنظر رکھنا ہو گا۔ تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کا اپنا بلاگ یا ویب سائیٹ ہے تو آپ ٹریفک کے قوانین پر ضرور لکھئیے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ٹریفک حادثات سے متاثرہ بہت سے لوگ نظر آئیں گے۔ ان کے درد کو سمجھنے کی کوشش کریں  اور ان پر ایک مختصر تحریر ضرور لکھیں  کہ اگر ہمارے لکھنے سے کوئی ایک حادثہ ہونے سے رہ جائے تولوگوں کی زندگی میں یقیناََ ایک خوشگوار تبدیلی آ سکے گی۔ ہمارے لکھنے سے شاید کسی کی جان ہی بچ جائے۔ جزاک اللہ۔

Advertisements

یہ مشتعل عوام۔۔۔ کوئی پاکستان کو ان سے بچائے


لاہور میں کل اتوار کے دن گرجا گھروں پر 2 خودکش حملے کیے گئے۔۔۔۔قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔ درجنوں زخمی ہوئے۔ اس سانحےکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اور حکومت کو  انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف پوری قوت استعمال کرنی چاہیئے اور انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ پاکستانی عوام کو بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا کہ اور کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں ہے۔ اس سانحے کے فوراََ بعد ایک اور سانحہ بھی رونما ہوا کہ مشتعل "عوام” نے دو "مشتبہ” افراد کو بہیمانہ اور سفاکانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جلا ڈالا اور لاشوں کی بھی بے حرمتی کی۔ اس قبیح ، قابلِ نفرت عمل کو بعض صاحبان اشتعال اور غم کا فوری ردِ عمل قرار دیتے ہوئے جائز  قرار دیتے ہیں پر یاد رہے کہ کسی مہذب "مہذب” معاشرے میں ایسی کسی کارروائی کو کسی نظر سے بھی جائز نہیں سمجھا جاتا۔  طالبان اور اس مشتعل ہجوم کے طرزِعمل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ان واقعات کے مطابق تو  یقیناََ ہم ایک مہذب معاشرہ نہیں ہیں۔ یہ واقعات کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ ان عناصر نے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا، عام لوگوں پر تشدد کیا، اور دہشت پیدا کی لہذا یہ بھی دہشت گرد ہی کہلائیں گے۔ ۔ پہلے ایسے واقعات اکا دکا ہوا کرتے تھے۔ پھر 27 دسمبر 2007 کا واقعہ ہوا اور سندھ کی کمزور حکومت نے ملکی املاک کو جلانے، لوٹنے اور نقصان پہنچانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ دی اور یوں یہ عناصر بے لگام ہوتے چلے گئے، اندرونی اور بیرونی دشمن بھی شامل ہوتے چلے گئے اور آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کو ان عناصر کے خلاف بلا کسی تفریق اور امتیاز سخت ترین کارروائی کرنی ہوگی تا کہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے ورنہ یہ تو نوشتہ دیوار ہے کہ ہم اپنی تباہی کے خود ہی ذمہ دار ہیں اور اپنی قبر خود اپنے ہاتھوں کھود رہے ہیں اور ہمارا معاشرہ وحشی جانوروں کاایک جنگل بنتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ ہمارےمعاشرے میں برداشت اور تحمل کا عنصر یکسر عنقا ہو چکا ہے۔ قانون اور انصاف کے موجودہ نظام پر عدم اعتماد اس صورتحال کاسبب ہیں۔ میں اس بات کا شدت سے قائل ہوں کہ کسی بھی فرد ادارے یا گروہ کو قانون کسی بھی انتہائی حالت میں بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے۔۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے حال پر رحم کرے۔۔آمین