Monthly Archives: نومبر 2015

ٹریفک کے مسائل – سواریاں


پاکستان میں ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص اور ناکارہ ہے۔ ٹریفک کے اس ناقص نظام کا خمیازہ عوام کو حادثات میں جانی اور مالی نقصانات کی صورت برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام کی خرابی کے بے شمار عوامل ہیں جن میں سے کچھ زیرِبحث لائے جائیں گے۔
آج ہم یہ دیکھیں گے کہ سڑکوں پر محفوظ سفر کے لیے کچھ سواریوں (Vehicles)کیلیے درکار لازمی شرائط و ضوابط
( لوازم جن کا اہتمام اشد ضروری ہے) کس طرح نظرانداز کیے جاتے ہیں
سائیکل:
آج سے کچھ 25 سال پہلے اگر آپ پاکستان میں چلنے والے سائیکل دیکھتے تو چند چیزیں ہر سائیکل کا لازمی حصہ ہوتی تھیں؛
1۔ گھنٹی،۔ آج آپ کو گھنٹی صرف بچوں کی سائیکلوں میں ہی لگی ملے گی۔
2۔ڈائنمو، ہیڈلائیٹ اور بیک لائیٹ(لائیٹ نہ ہونے کی صورت میں پولیس والے کسی پہیے کی ہوا نکال دیا کرتے تھے)
موٹر سائیکل:
موٹرسائیکل کی سواری آج موت کے کنویں کی سواری بن کر رہ گئی ہے؛ کچھ ضروری چیزیں آپ نے بھی نوٹ کی ہونگی؟
1۔موٹر سائیکل یا بائیک کے عقب نما آئینے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی نئی بائیک کے ساتھ یہ آئینے موجود ہوتے ہیں مگر
سڑک پر آنے والے موٹر سائیکلوں کی ایک قلیل تعداد ہی میں یہ آئینے نظر آئیں گے۔(اتار کر رکھ لیے جاتے ہیں)
2۔ بڑے شہروں میں آپ کو ایک خاصی بڑی تعداد میں ایسے موٹر سائیکل نظر آئیں گے جن کی ہیڈلائیٹ نہیں ہو گی۔
ایک بڑی تعداد بریک لائیٹ کے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہے۔ سمت نما(انڈیکیٹرز) بھی اکثر غائب ہی ملیں گے۔
3۔ موٹر سائیکل سوار بغیر ہیلمٹ کے نظر آتے ہیں۔
4۔ رفتار پیما(اسپیڈ میٹر )بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں۔
5۔ اکژ افراد اپنے موٹر سائیکل کی فاصلہ پیما(اوڈومیٹر) کی تار نکال دیتے ہیں تا کہ جب موٹر سائیکل بیچی جائے تو کم چلی
ہوئی معلوم ہو۔(قومی مکاری اور دھوکہ دہی کا وصف آخر کہاں اور کب کام آئے گا؟)
آٹو رکشہ:
آٹو رکشہ کم فاصلے کے لیے ایک بہترین اور سستی سواری ہوا کرتا تھا مگر اب ریڑھ کی ہڈی کے نقائص کی سب سے بڑی وجہ؛
1۔ اگر آپ موجودہ رکشوں میں بیٹھے ہیں تو یقیناً نوٹ کیا ہو گا کہ ان کی سیٹ انتہائی تکلیف دہ اور رکشہ کی سواری کمر اور
ریڑھ کی ہڈی کیلیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ (رکشے کا ڈیزائن مسافروں کیلیے بہت غیرمحفوظ ، بیہودہ اور خطرناک ہے)
2۔ کرائے کے تعین کے لیے قانونی میٹرز اکثر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اگر موجود ہوں بھی تو استعمال نہیں کیے جاتے۔
کرائے کا تعین اپنی من مانی سے کیا جاتا ہے، مسافر کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اصل سے کئی گنا زائدکرایہ لیا جاتا ہے۔
3۔ اکثر رکشے CNGکے ناغے والے دن LPGیا پٹرول کا استعمال کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات اور دھماکے ہو چکے ہیں۔
ٹیکسی:
کار گاڑی ایک آرام دہ سواری ہے جو سفر کو محفوظ، پُرسُکون اور تیز رفتار بناتی ہے، مگر افسوس ہمارے ملک میں یہ سواری اب کچھ اس حال میں پہنچ گئی ہے؛
1۔ ٹیکسیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں اور ہسپتالوں کے نزدیک ہی دستیاب ہوتی ہیں، ان مقامات کے علاوہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی آپ کو ٹیکسی بڑی مشکل سے ملے گی۔
2۔ ائیر پورٹ کے علاوہ کسی ٹیکسی میں کرایہ میٹر نہیں ملیں گے۔ اپنی مرضی سے من مانا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔
3۔ اچھی، نئی اور قابلِ استعمال ٹیکسیاں صرف ائیر پورٹ پر ہی ملیں گی۔ شہر میں اکثر ٹیکسیاں انتہائی خستہ حالت میں چلتی نظر آتی ہیں(یہ ٹیکسیاں 30 سے 45 سال پرانی گاڑیوں کے ڈھانچوں پر مشتمل ہوتی ہیں)، ان کی حالت کے پیشِ نظر آپ ایسی ٹیکسی میں بیٹھنا ہرگز پسند نہیں کریں گے۔
سائیکل، موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور ٹیکسی کبھی کسی زمانے میں احتیاط، حفاظت اور ذمہ داری کی علامت ہوا کرتے تھے مگر آج یہ خطرناک حادثات کا سبب صرف اس لیے بن گئے ہیں کہ ہم نے ان سواریوں کے استعمال کے جو قاعدے ، قانون اور اصول لازمی تھے ، انہیں پسِ پُشت ڈال دیا اور اپنی جہالت کے سبب انہیں جان لیوا، خطرناک اور تکلیف دہ بنا لیا، یہ ہماری جہالت ہی ہے جو ہمیں مفید اشیاء کو ضرر رساں بنا دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیندہ پوسٹ میں انشاءاللہ اس موضوع پر مزید بحث جاری رہے گی۔(کچھ اور سواریاں زیر بحث ہونگی)
پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے


یہ خبر پڑھئیے اور پاکستانی حکومت کی غیرت اور حمیت کی داد دیجئیے۔۔۔
BBC-talor
ummat-talor


اب بس یہی کہنا پڑتا ہے۔
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

ایسا کیوں؟


ہماری موبائل کمپنیاں ہمیں کس طرح بیوقوف بناتی ہیں؟ ufoneکی 666  یوٹیون سروس سے یہ پیغام ملا؛
Namaz k auqat pey Azaan ko apni Utune banaein bilkul MUFT.
Is message per Namaz likh k reply Karen. Sirf 99 Paisas/Day.
اب یہاں مفت کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب کمپنی کاکوئی وفادار سیانا ہی سمجھا سکتا ہے! عوام کو ان فریبوں،چالاکیوں، مکاریوں اور ذومعنی پیشکشوں سےان کمپنیوں کو کیا تسکین ملتی ہے؟ سوائے عوام کو لوٹنے کے!!! آپ کو کیا سمجھ آتا ہے ان طور طریقوں سے؟

3Gانٹرنیٹ


پاکستان میں 3جی موبائل کی آمد کے بعد توقع تھی کہ موبائل انٹرنیٹ سستا ہو جائے گا۔ مگر ابھی تک یہ بہت زیادہ مہنگا ہے۔ روزانہ کے پیکج 4 سے 6 روپے فی 1 ایم بی ہیں جو یقیناً بہت مہنگے ہیں۔ ہفتہ وار اور ماہانہ پیکج اور بھی مہنگے ہیں جو 10 روپے سے لیکر 14 روپے فی ایم بی تک دستیاب ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف اقسام کے پیکج جو ٹائم بیسڈ ہیں، وہ بھی یہ کمپنیاں پیش کرتی ہیں۔ ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ یہ سارے پیکج عوام کی جیب سے پیسہ نکالنے کے علاوہ کسی کام کے نہیں ہیں۔ اگر ڈیٹا زیادہ ہو گا تو ٹائمنگ ایسی کہ عام آدمی یا طالب علموں کے کسی کام کا نہیں ہو گا۔ اگر ٹائمنگ مناسب ہو گی تو ڈیٹا بہت کم دیں گے۔
نئی ٹیکنالوجی اور جدید انٹرنیٹ کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے اور عوام بھی خوشی سے لٹ رہے ہیں۔
آپ کون سی سروس کا کون سا پیکج استعمال کرتے ہیں؟ اگر مناسب سمجھیں تو شئیر ضرور کریں۔

ایک عالم گیر تلخ حقیقت: جس کی لاٹھی اُس کی بھینس


خبر: امریکی صدراوبامہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینیوں کے اسرائیلیوں پر حملوں کی شدید مذمت بھی کی ہے۔
سبق: جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔

ابامہ اور اسرائیل

ابامہ اور اسرائیل