Monthly Archives: دسمبر 2015

عوام کوواقعی مر جانا چاہیئے


مفادات، ذاتی پسند نا پسند، اقرباء پروری، تعصب، ڈھٹائی اور بد عنوانی کی سیاست سمجھنی ہو تو میرے پیارے پاکستان کی سیاست کو دیکھئیے، کچھ اور رموز ِحکومت بغور سمجھنے ہو ں تو پھر سندھو ساگر کی زمین صوبہ سندھ کی سیاست کو خوردبین سے دیکھئیے۔
پچھلے ایک ہفتے سے سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سیاسی بزرچمہروں کے ہاتھ آ چکا ہے اور عوام ساری بات سمجھ چکے ہیں کہ معاملہ کیا اور کس کو بچانے کا ہے۔ مگر ایسی ڈھٹائی اور بے حسّی کا زمانہ ہے کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی
اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کا کرپشن سے کیا لینا دینا؟ ان کا کام صرف امن و امان، دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر ”یہ کرپشن میں بھی گھس گئے۔“ گویا جرائم کچھ اور ہوتے ہیں، یا دہشت گردی اور دیگر جرائم ”کرپشن“ ختم کیے بغیر نیست و نابود کیے جا سکتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ جرم کے درخت کی شاخوں کو تو کاٹ دیا جائے مگر ”جڑوں“ کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اس سادگی پر تو پاکستانی عوام کو مر ہی جانا چاہئیے۔

QAS-1

Advertisements

لیاقت علی خان اور سائیں سرکار


کل اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب نے انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان بغیر انتخاب لڑے وزیرِاعظم پاکستان بن گئے۔ اور یہ کہ کرپشن لیاقت علی خان کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ اور کرپشن ختم کرنے کے لیے دو سال تو بہت کم ہیں اس کے لیے تو ”عمرِنوح“ درکار ہو گی۔ مزید بھی بہت کچھ فرمایا سائیں سرکار نے۔۔۔۔۔۔ مگر افسوس صد افسوس!!!
اور یقین مانئیے کہ ایسی باتوں پر کچھ لکھنے کے لیے الفاظ ملتے ہی نہیں ۔ اخباری تراشے ملاحظہ فرمائیں ۔

QAS-1

QASکرپشن

QASکرپشن

شہداء کے خون کی قیمت


سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم کو سندھ پولیس کے ”تفتیشی“ افسر اعلیٰ نے بے قصور قرار دے دیا۔ گویا ” 90 “دن کی رینجرز کی تفتیش بیکار ”ثابت“ ہوئی اور  ”4“ دن کی پولیس کی تفتیش اتنی ”کارگر“ ثابت ہوئی۔
کیا کہنے اس نظام ، سیاست، پولیس اور تفتیش کے!
مجھے اس تفتیشی افسر پر حیرت ہے جس کی فورس کے جوان اس جنگ میں صفِ اول میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور ایسے افسران اور سیاسی لوگ ان شہداء کے خون کو اس بے حسی سے مٹی میں ملا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم ملزم ہیں، ان کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیں مگر اپنے شہداء کے خون کی حُرمت کو یوں تو مت بیچیں۔ حکومتی پارٹی کے ارکان نے اس معاملے پر جو دلائل دیے وہ اتنے بودے ہیں کہ ان پر صرف ہنسا جا سکتا ہے۔ مثلاً پورے پاکستان کو یہ بتایا گیا ہے کہ قانون کے کسی مجرم کو اب کسی خوف اور ڈر کے بنا اپنا علاج کسی بھی ڈاکٹر، کلینک یا ہسپتال سے کروانے کی مکمل ”آزادی“ ہے۔ کوئی ڈاکٹر قانون کو آگاہ کیے بغیر کسی بھی مجرم کا علاج معالجہ کر سکتا ہے، کھلی آزادی ہے سب کو۔ جنگل کا قانون مبارک ہو پاکستانیو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاباش!

Dr-Asim Ummat-2

Dr-Asim Ummat-1

جراثیم کش صابن(Antibacterial Soap)کے اشتہارات



آجکل میڈیا پر جراثیم کُش صابن کے اشتہارات تو دیکھے ہی ہوں گے۔ یہ اشتہارات آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ کے ارد گرد کروڑوں نقصان دِہ بیکٹیریا اور دیگر جراثیم موجود ہیں جو آپ کی صحت کو نقصان پہنچائیں گے صرف اور صرف ایک صورت میں کہ
آپ نے اس اشتہار میں بتائے گئے جراثیم کُش صابن کو استعمال نہ کیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اشتہار آپ کوہرگز ہرگز نہیں بتائے گا کہ؛
1۔ صفائی کے عمومی اُصُول کیا ہیں؟
2۔ یہ جراثیم صرف ہاتھوں ہی کے ذریعے انسانی جسم میں نہیں پہنچتے۔
3۔ یہ جراثیم ہوا، کھانے اور پینے کی اشیاء اور برتنوں کے ذریعے بھی انسانی جسم تک رسائی پاتے ہیں۔
4۔ان اشتہارات میں ڈاکٹر جعلی ہوتے ہیں۔
5۔ اکثر ریفرنس اور دکھائی جانے والی LABSبھی جعلی ہوتی ہیں۔
6۔ ایسے اشتہارات آپ کو معلومات دینے کے بجائے اپنا مخصوص ایجنڈا ہی پورا کرتے ہیں۔
مانا کہ تشہیر ان کمپنیوں کا حق ہے اور وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر جیسے چاہیں کر سکتی ہیں۔ مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
1۔ کیا ان اشتہارات کی کوئی سنسر شپ بھی ہوتی ہے؟
2۔ ایک ایسی پراڈکٹ جو لوگوں کی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے کے اشتہار کے لیے محکمۂ صحت نے کوئی منظوری دی ہے؟
3۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(PMA) جیسے اداروں کا ان اشتہارات کے حوالے سے کیا کردار ہوتا ہے؟
4۔ اشتہار میں کیے گئے دعوؤں کی جانچ پڑتال کہاں کی جاتی ہے؟
5۔ کیا یہ تحقیق کسی ملکی ادارے کی نظروں سے گذری ہے؟
جبکہ
FDA کی 42 سالہ تحقیقات کا نچوڑ یہ ہے کہ
ایسے جراثیم کش صابن بے فائدہ اور غیر مؤثر ہیں۔ مزید براں (Triclosan) نامی کیمیائی جز کے حامل صابن نقصان دہ ، مضر صحت اور ماحول دشمن ہیں۔ FDAکی رپورٹ کے مطابق صابن ساز کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ 2016کے اختتام تک؛
وہ ان کی افادیت کے ثبوت فراہم کریں یا
Triclosan کا استعمال ترک کریں یا
2016 کے بعد اپنی مصنوعات کی تیاری بند کردیں۔

جراثیم کُش صابن(Antibacterial Soap)


جراثیم کش صابن(Antibacterial Soap)
جراثیم کش صابن آپ نے دیکھے اور یقیناً استعمال بھی کیے ہوں گے۔ میڈیا پر چلنے والے ان کے اشتہار بھی دیکھے ہوں گے۔ ان اشتہارات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ صابن اور صرف یہی صابن آپ کی صحت کے ضامن ہیں، یہ صابن اتنی بیماریوں اور اتنے بیکٹیریا کو سیکنڈوں میں ہلاک کر کے آپ کو صحت مند بناتے ہیں۔اگر آپ نے سادہ صابن استعمال کیا تو آپ بیمار ہو جائیں گے اور آپ کی صحت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ آئیے آج ایک نظر ان جراثیم کش صابنوں پر ڈالتے ہیں۔
جراثیم کش صابن:
کوئی بھی ایسا صابن جس میں جراثیم کو مارنے کے لیے کوئی جراثیم کش (Antimicrobial)مادہ(Triclosan, Triclocarbon, Chloroxylenol & tetrasodium) استعمال کیا گیا ہو، جراثیم کش صابن کہلاتا ہے۔یہ صابن کچھ بیکٹیریا کو مار تو دیتا ہے مگر وائرس(Virus) پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ انسانی صحت کیلیے غیر مضر بیکٹیریا (Non-pathogenic)کو بھی تلف کر دیتا ہے ۔
مشہور امریکی ادارےFDAکی 42 سالہ تحقیق کے مطابق ان نام نہاد جراثیم کش صابنوں کے فوائد اور مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ FDAنے امریکہ میں ایسے صابن تیار کرنے والی کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 2016 کے اختتام تک ان صابنوں کے مفید اور مؤثر ہونے کے ثبوت فراہم کریں بصورت دیگر اپنی مصنوعات کی (Triclosan کو ہٹا کر) لیبلینگ تبدیل کریں یا 2016 کے بعد اپنی مصنوعات کی تیاری بند کردیں۔ FDA ان کو مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
FDAکی رپورٹ کے مطابق؛
1۔ سادہ صابن اور پانی بمقابلہ جراثیم کش صابن: جراثیم کش صابن سادہ صابن اور پانی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر و مفید نہیں ہےالبتہ یہ مہنگا ضرور ہے۔
2۔ وائرس پر اثر: عام تاثر کے بر عکس یہ صابن وائرس(Virus) پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتے۔ نزلہ اور زکام کے پھیلاؤ یہ صابن کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ اس کے علاوہ سانس اور آنتوں کے انفیکشن کو روکنے میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آیا۔ نقصان دِہ بیکٹیریا (Pathogenic)کے ساتھ ساتھ غیر ضرر رساں بیکٹیریا(Non-pathogenic) کو بڑی تعداد میں ہلاک کر دیتا ہے۔
3۔ماحول دشمن: Triclosanمادے والے صابن ماحول دشمن ہیں، پانی کے ذخائر میں شامل ہو کر یہ مادہ الجی کے ضیائی تالیف(Photosynthesis) کو متاثر کر کے آکسیجن کی پیداوار میں کمی لاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سروے(USGS ) کے مطابق یہ چربی میں حل پذیر مادہ ہے جو جانوروں کے خون میں چربی کی مقدار کو بڑھا کر انہیں بیمار کر سکتا ہے۔
4۔اینڈو کرائن غدود پر اثر: Triclosanجانوروں میں تھائیرائیڈ ہارمون کے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور ان میں کینسر، بانجھ پن اور جلد بلوغت جیسی بیماریا ں پیدا کر دیتا ہے۔
5۔جراثیم میں مزاحمت کا سبب: جراثیم کش صابن اور اس میں موجود مادے بیکٹیریا میں جراثیم کش مادوں کے خلاف قوت مدافعت یا مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ WHOکے مطابق یہ خطرہ بڑھ رہا ہے اور کچھ بیکٹیریا میں مزاحمت یا مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔ ان صابنوں کے مسلسل استعمال سے خدشہ ہے کہ صرف وہ بیکٹیریا بچ جائیں گے جو قوت مدافعت رکھتے ہوں گے جنہیں ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔
6۔صحت کے مزید مسائل:ایسے صابنوں اور ان میں شامل مادوں کے طویل استعمال سے بچوں میں قدرتی مدافعتی نظام طاقتور نہیں ہو پاتا اور ایسے بچے مختلف بیماریوں اور الرجی کا نسبتاً جلدی شکار ہو جاتے ہیں۔Triclosanجِلد میں سرایت کرنے والا مادہ ہے اور استعمال کرنے والوں کی 75 فیصد تعداد کے خون اور پیشاب میں پایا گیا ہے جو صحت کے مزید کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھئیے۔ فی امان اللہ

حفظان صحت کا ایک اصول


حفظانِ صحت کا ایک زرّیں اُصول (ہاتھوں کا دھونا)
حفظانِ صحت کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے؛ ہاتھوں کا صاف پانی سے دھونا۔
ہمارے ہاتھ ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ صحت کے حوالے سے ان کا ایک خاص مقام ہے۔ کھانا، پینا، صفائی کرنا اور دوسرے بیشمار کام ہمارے ہاتھ ہی سے سر انجام پاتے ہیں۔ اگر ہاتھ صاف ہوں گے تو ہم صحت مند رہیں گے۔
ہاتھ کب دھونے چاہئیں؛
1۔ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد
2۔ کھانا تیار کرنے سے پہلے اور بعد
3۔ باتھ روم استعمال کرنے کے بعد
4۔ ناک صاف کرنے، کھانسنے یا چھینک کے بعد
5۔ کچرے کی صفائی کے بعد
6۔کسی زخم وغیرہ کی صفائی یا پٹّی کے بعد
7۔کسی بیمار یا زخمی کی عیادت کے بعد
8۔کسی جانور(پالتو یا غیر پالتو) کو چھونے کے بعد
ہاتھ کیسے دھوئے جائیں:
ہاتھ اس ترتیب سے دھونے چاہئیں؛
1۔ تر(گیلا) کرنا: رواں/بہتے پانی سے ہاتھ گیلے کریں۔
2۔صابن لگانا: صابن اچھی طرح سے ہتھیلیوں، ہاتھ کی پشت ، انگلیوں اور ناخنوں میں لگائیں۔
3۔ مَلنا: 15 سے 20 سیکنڈز تک ہاتھوں کو خوب ملیں۔
4۔ دھونا: صاف بہتے پانی سے ہاتھوں کو خوب دھوئیں۔
5۔خشک کرنا: صاف کپڑے، تولیے یا ہوا میں ہاتھ خشک کر لیں۔
نوٹ: امریکی ادارے(FDA)کی42 سالہ تحقیق کے مطابق نام نہاد جراثیم کش صابن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے مفید نہیں ہیں انکی بجائے صاف پانی اور سادہ صابن کا استعمال زیادہ مفیدہے۔
نوٹ: جراثیم کش لوشن (Hand Sanitizers) ہاتھوں کو جراثیم سے مکمل صاف نہیں کرتے اس لیے ان کا استعمال صرف خاص مواقع پر ہی کیا جانا چاہئیے۔

مقامی انتخابات


آج دسمبر 2015 کی 5 تاریخ ہے۔
آج بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے تحت پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں لوگ اپنی مقامی حکومتوں کے لیے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
میں تمام ووٹروں سے ایک ہی بات کہوں گا کہ آپ ذات، برادری، قومیت، زبان اور نسلی تعصبات چھوڑ کر صرف اور صرف ذاتی کردار اور اچھائی کی بنیاد پر ہی اپنے نمائندوں کو منتخب کریں
ورنہ
اگلے چار سال نا انصافی اور استحصال کو برداشت کرنے کے لیے ابھی سے تیار ہو جائیں۔
آخر مفادات اور تعصبات کی سیاست کے منفی ثمرات سے ہم لوگوں نے ہی مستفیض ہونا ہے۔