حفظان صحت کا ایک اصول

حفظانِ صحت کا ایک زرّیں اُصول (ہاتھوں کا دھونا)
حفظانِ صحت کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے؛ ہاتھوں کا صاف پانی سے دھونا۔
ہمارے ہاتھ ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ صحت کے حوالے سے ان کا ایک خاص مقام ہے۔ کھانا، پینا، صفائی کرنا اور دوسرے بیشمار کام ہمارے ہاتھ ہی سے سر انجام پاتے ہیں۔ اگر ہاتھ صاف ہوں گے تو ہم صحت مند رہیں گے۔
ہاتھ کب دھونے چاہئیں؛
1۔ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد
2۔ کھانا تیار کرنے سے پہلے اور بعد
3۔ باتھ روم استعمال کرنے کے بعد
4۔ ناک صاف کرنے، کھانسنے یا چھینک کے بعد
5۔ کچرے کی صفائی کے بعد
6۔کسی زخم وغیرہ کی صفائی یا پٹّی کے بعد
7۔کسی بیمار یا زخمی کی عیادت کے بعد
8۔کسی جانور(پالتو یا غیر پالتو) کو چھونے کے بعد
ہاتھ کیسے دھوئے جائیں:
ہاتھ اس ترتیب سے دھونے چاہئیں؛
1۔ تر(گیلا) کرنا: رواں/بہتے پانی سے ہاتھ گیلے کریں۔
2۔صابن لگانا: صابن اچھی طرح سے ہتھیلیوں، ہاتھ کی پشت ، انگلیوں اور ناخنوں میں لگائیں۔
3۔ مَلنا: 15 سے 20 سیکنڈز تک ہاتھوں کو خوب ملیں۔
4۔ دھونا: صاف بہتے پانی سے ہاتھوں کو خوب دھوئیں۔
5۔خشک کرنا: صاف کپڑے، تولیے یا ہوا میں ہاتھ خشک کر لیں۔
نوٹ: امریکی ادارے(FDA)کی42 سالہ تحقیق کے مطابق نام نہاد جراثیم کش صابن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے مفید نہیں ہیں انکی بجائے صاف پانی اور سادہ صابن کا استعمال زیادہ مفیدہے۔
نوٹ: جراثیم کش لوشن (Hand Sanitizers) ہاتھوں کو جراثیم سے مکمل صاف نہیں کرتے اس لیے ان کا استعمال صرف خاص مواقع پر ہی کیا جانا چاہئیے۔

Advertisements

Tagged: , , , , , , , , ,

2 thoughts on “حفظان صحت کا ایک اصول

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal دسمبر 9, 2015 وقت 11:02 صبح Reply

    یعنی اتنی تحقیق اور اتنی ترقی کے بعد آ گئے ”آنے والی تھاں تے“۔ سادہ صابن کی دریافت بہت پرانی ہے اور اس سے قبل ہاتھوں کو صاف کرنے کیلئے آٹا یا آٹے کا چھان بورا (چوکر) لگا کر صاف کیا جاتا تھا ۔ آج بھی اگر صابن سے ہاتھ صاف نہ ہو پائیں تو آٹا یا چھان بورا لگا کر صاف کیا جاتا ہے ۔ جرمنی اور کچھ اور یورپی ممالک میں چھان بورے کی بنی ٹکیاں اس کا کیلئے ملتی ہیں جو کارخانوں مین یا ورکشاپوں میں استعمال ہوتی ہیں ۔ وائے ترقی ۔ ”جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی“۔
    http://www.theajmals.com

  2. baitladha دسمبر 9, 2015 وقت 11:18 صبح Reply

    محترم! بلاگ پر آپ کے تبصرے کا شکریہ۔ درست لکھا آپ نے۔۔۔۔۔۔اندھی تقلید ہمیشہ غلط ہی ہوا کرتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: