حق اور سچ

حق اورباطل
انسان دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر وہ تربیت اور پرداخت کے مراحل سے گزرتا ہوا بچپن سے جوانی میں داخل ہوتا ہے۔ اس عرصے میں اُس کی تربیت جس ماحول اور طرز پر کی جاتی ہے وہ اُسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔
اگر اس کی تربیت ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں حق اور سچ کو زندگی کا رہنما اُصول سمجھا جاتا ہے اور زندگی اسی اُصول کی بنیاد پر گزاری جاتی ہے تو اس ماحول کا پروردہ انسان ہمیشہ سچ بولنے اور حق کی حمایت کرنے کوشش میں رہتا ہے اور یہ رویہ اس کی انسانی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے اور اس کے لیے اسے کوئی غیر معمولی کوشش درکار نہیں ہوتی۔ اس کے والدین ، دوست احباب ، رشتہ دار اور معلمین اگر بحیثیتِ مجموعی اچھے اخلاق کے مالک ہیں اور ارد گرد کا ماحول حسن سلوک اور دوسروں کے احترام کا پرچار کرتا ہے تو اس کی زندگی میں بھی یہ اخلاق اور حسن ِ سلوک نمایاں ہو ں گے۔
اور اگر تو اُس کی تربیت ایسے ماحول میں کی جاتی ہے جہاں جھوٹ اور مکر و فریب کو کوئی برائی سمجھا ہی نہیں جاتا( بلکہ ان برائیوں پر فخر بھی محسوس کیا جاتا ہے ) تو اِس ماحول کا پروردہ انسان جھوٹ اور مکر و فریب کا خوگر ہو تا ہے اور ان برائیوں کا سرزد ہونا اس کے لیے کسی خلش یا بے چینی کا سبب نہیں بنتا۔ اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی برائی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
ایسی تربیت کے حامل انسان اگر دوسرے انسان کی کسی بات سے متفق نہ ہوں تو دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کے بجائے اُس کی شدید مخالفت پر اُتر آتے ہیں پھر گالم گلوچ، طنز و تشنیع اور اگر آمنے سامنے ہوں تو ہاتھا پائی تک نوبت آ جاتی ہے۔ یہ رویہ ہمارے معاشرے کا عمومی آئینہ ہے اور ہمارے قومی و اجتماعی شعور و تربیت کا نتیجہ بھی۔
ایک مثال دیکھیں؛ زید کو نواز شریف پسند ہے اور اسکے قریبی عزیز کو عمران خان۔ اب اگر دونوں کی تربیت اچھے اخلاقی ماحول میں عین فطرت پر ہوئی ہے اور دونوں شعور اور فطری اعتدال سے مالا مال ہیں تو دونوں آپس میں بحث و مباحثہ بھی کریں گے مگر ایک اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے، آپس میں کبھی کسی تلخی اور نفرت کو درمیان میں نہیں لائیں گے، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں گے، ایک دوسرے پر اپنی رائے تھوپنے کی ہرگز کوشش نہیں کریں گے۔ آپس کا رشتہ برقرار رکھیں گے۔کیونکہ یہی ان کا حسنِ تربیت ہے۔
اس کے بر عکس اگر ان دونوں کی تربیت جھوٹ اور مکر و فریب کے ماحؤل میں ہوئی ہو گی تو دونوں کی ہر بحث کا آغاز تو اچھا ہو گا لیکن رفتہ رفتہ گالم گلوچ اور طنز و تشنیع اس میں در آئیں گے اور بالآخر اختتام ہاتھا پائی اور توڑ پھوڑ پر ہو گا۔ ایک دوسرے سے تعلقات خراب ہو جائیں گے، نفرت اور حسد کا جذبہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اور آپس کی بول چال بھی بند ہو جائے گی۔
غیض و غضب، غصہ، حسد، کینہ، بغض، اور تذلیل ایسے جذبے ہیں جو انسان کے فطری اخلاق پر حاوی آ کر انسان کو حیوان اور شیطان بنا دیتے ہیں ۔ ان کے تابع ہو کر انسان معاشرے میں ظلم و نا انصافی کا باعث بنتا ہے۔
آپ اپنے ارد گرد دیکھیں آپ کو اپنے قریبی دوستوں، رشتے داروں اور ہر طرف ایسے بے شمار لوگ نظر آئیں گے جو ان جذبوں سے مغلوب ہیں اور دوسروں پر ظلم اور زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کی مدد کیجئیے، ان کو سمجھا کر، ان کو روک کر، دلیل سے حسن ِ اخلاق سے اور اپنی فطری سچائی سے!!!

Tagged: , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: