Category Archives: خاص/special

معیارِ صحافت


 آج دو فروری کے جنگ کراچی میں یہ خبر بہت سے لوگوں نے پڑھی ہو گی۔اول تو یہ کوئی خبر نہیں ہے کی فروری میں 29 دن ہیں۔  پھر اسے ایک خاص خبر کی شکل دینا اور ایک مخصوص نایاب صورت میں پیش کرنا۔
ایسی فضول بیشمار خبریں ہیں جو انتہائی غلط اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔
میرا مقصد تنقید صرف یہ ہے کہ آپ کچھ تحقیق تو کر لیا کریں۔
اس صحافی نے کیا تحقیق کی ہو گی؟یہ خبر صرف بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔ باقی قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔
سن 2044 کا فروری بھی سن 2016 کے فروری ہی کی طرح ہو گا۔ سن 2044 اور سن 2016 کے کیلنڈر کے عکس بھی ملاحظہ کر لیجئیے۔
اب 823 سال کے ہندسے کو دیکھئیے اور اس صحافی کی تحقیق کی داد ضرور دیجئیے۔۔۔

 

2016

2016

feb-16

feb-44

عوام کوواقعی مر جانا چاہیئے


مفادات، ذاتی پسند نا پسند، اقرباء پروری، تعصب، ڈھٹائی اور بد عنوانی کی سیاست سمجھنی ہو تو میرے پیارے پاکستان کی سیاست کو دیکھئیے، کچھ اور رموز ِحکومت بغور سمجھنے ہو ں تو پھر سندھو ساگر کی زمین صوبہ سندھ کی سیاست کو خوردبین سے دیکھئیے۔
پچھلے ایک ہفتے سے سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ سیاسی بزرچمہروں کے ہاتھ آ چکا ہے اور عوام ساری بات سمجھ چکے ہیں کہ معاملہ کیا اور کس کو بچانے کا ہے۔ مگر ایسی ڈھٹائی اور بے حسّی کا زمانہ ہے کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی
اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ رینجرز کا کرپشن سے کیا لینا دینا؟ ان کا کام صرف امن و امان، دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر ”یہ کرپشن میں بھی گھس گئے۔“ گویا جرائم کچھ اور ہوتے ہیں، یا دہشت گردی اور دیگر جرائم ”کرپشن“ ختم کیے بغیر نیست و نابود کیے جا سکتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ جرم کے درخت کی شاخوں کو تو کاٹ دیا جائے مگر ”جڑوں“ کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اس سادگی پر تو پاکستانی عوام کو مر ہی جانا چاہئیے۔

QAS-1

لیاقت علی خان اور سائیں سرکار


کل اپنے ہر دلعزیز وزیرِاعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب نے انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان بغیر انتخاب لڑے وزیرِاعظم پاکستان بن گئے۔ اور یہ کہ کرپشن لیاقت علی خان کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ اور کرپشن ختم کرنے کے لیے دو سال تو بہت کم ہیں اس کے لیے تو ”عمرِنوح“ درکار ہو گی۔ مزید بھی بہت کچھ فرمایا سائیں سرکار نے۔۔۔۔۔۔ مگر افسوس صد افسوس!!!
اور یقین مانئیے کہ ایسی باتوں پر کچھ لکھنے کے لیے الفاظ ملتے ہی نہیں ۔ اخباری تراشے ملاحظہ فرمائیں ۔

QAS-1

QASکرپشن

QASکرپشن

شہداء کے خون کی قیمت


سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم کو سندھ پولیس کے ”تفتیشی“ افسر اعلیٰ نے بے قصور قرار دے دیا۔ گویا ” 90 “دن کی رینجرز کی تفتیش بیکار ”ثابت“ ہوئی اور  ”4“ دن کی پولیس کی تفتیش اتنی ”کارگر“ ثابت ہوئی۔
کیا کہنے اس نظام ، سیاست، پولیس اور تفتیش کے!
مجھے اس تفتیشی افسر پر حیرت ہے جس کی فورس کے جوان اس جنگ میں صفِ اول میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور ایسے افسران اور سیاسی لوگ ان شہداء کے خون کو اس بے حسی سے مٹی میں ملا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم ملزم ہیں، ان کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیں مگر اپنے شہداء کے خون کی حُرمت کو یوں تو مت بیچیں۔ حکومتی پارٹی کے ارکان نے اس معاملے پر جو دلائل دیے وہ اتنے بودے ہیں کہ ان پر صرف ہنسا جا سکتا ہے۔ مثلاً پورے پاکستان کو یہ بتایا گیا ہے کہ قانون کے کسی مجرم کو اب کسی خوف اور ڈر کے بنا اپنا علاج کسی بھی ڈاکٹر، کلینک یا ہسپتال سے کروانے کی مکمل ”آزادی“ ہے۔ کوئی ڈاکٹر قانون کو آگاہ کیے بغیر کسی بھی مجرم کا علاج معالجہ کر سکتا ہے، کھلی آزادی ہے سب کو۔ جنگل کا قانون مبارک ہو پاکستانیو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاباش!

Dr-Asim Ummat-2

Dr-Asim Ummat-1

مقامی انتخابات


آج دسمبر 2015 کی 5 تاریخ ہے۔
آج بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے تحت پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں لوگ اپنی مقامی حکومتوں کے لیے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
میں تمام ووٹروں سے ایک ہی بات کہوں گا کہ آپ ذات، برادری، قومیت، زبان اور نسلی تعصبات چھوڑ کر صرف اور صرف ذاتی کردار اور اچھائی کی بنیاد پر ہی اپنے نمائندوں کو منتخب کریں
ورنہ
اگلے چار سال نا انصافی اور استحصال کو برداشت کرنے کے لیے ابھی سے تیار ہو جائیں۔
آخر مفادات اور تعصبات کی سیاست کے منفی ثمرات سے ہم لوگوں نے ہی مستفیض ہونا ہے۔

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے…


اردو کی یہ حالت ہو گئی  ہے کہ عنوان ابن صفی ہے اور تفصیل ابن انشاء کی….کسی کاپی پیسٹ کی کارروائی لگتی ہے. اڈیٹر صاحب نے بھی اوکے کر دی ہو گی جبھی پرنٹ میں آگئی………اللہ رحم کرے ہم سب پر….

image

محفوظ سفر اور حادثات سے بچاؤ-1


پاکستان میں ٹریفک حادثات بہت زیادہ ہوتے ہیں، ہر دوسرا شخص کسی نا کسی روڈ حادثے سے متاثر ہوتا ہے یا ایسے کسی حادثے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتا ہے۔ پاکستان میں حادثات کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ ان حادثات میں انتہائی قیمتی انسان نا گہانی اموات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ حادثات انسانی المیئے ہیں۔
ان حادثات کی وجوہات میں سے کچھ درج ذیل ہیں؛
۔ڈرائیور حضرات کا ٹریفک قوانین سے لا علم ہونا
۔ ٹریفک قوانین کی عدم تدریس
۔ ٹریفک قوانین کا عدم نفاذ
۔   سڑکوں کی مخدوش حالت
۔  مہلک حادثات کے ذمہ داران کی عدم گرفتاری یا سزا سے بچنا
۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں بد عنوانی(کرپشن)۔
۔ گاڑیوں کی عمومی صحت سے لا علمی
۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفیکیٹ کے اجراء میں کرپشن۔
۔ پیدل چلنے والوں کا ٹریفک قوانین سے لاعلم ہونا
۔ حکومتی محکموں میں کرپشن۔
۔ عمومی شعور کی کمی(اجتماعی بے حسی)۔
اگر آپ ان وجوہات پر غور کریں تو ایک بات تو واضح ہے کہ بحیثیت قوم ہم میں اجتماعی شعور کی سخت کمی ہے۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم انسان سے زیادہ اس بندر کی طرح ہو جاتے ہیں جس کے ہاتھ کوئی استرا آ گیا ہو۔
ان حادثات سے بچاؤ ممکن ہے لیکن اس کے لیے درج بالا وجوہات کو مدِنظر رکھنا ہو گا۔ تمام پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ اگر آپ کا اپنا بلاگ یا ویب سائیٹ ہے تو آپ ٹریفک کے قوانین پر ضرور لکھئیے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ٹریفک حادثات سے متاثرہ بہت سے لوگ نظر آئیں گے۔ ان کے درد کو سمجھنے کی کوشش کریں  اور ان پر ایک مختصر تحریر ضرور لکھیں  کہ اگر ہمارے لکھنے سے کوئی ایک حادثہ ہونے سے رہ جائے تولوگوں کی زندگی میں یقیناََ ایک خوشگوار تبدیلی آ سکے گی۔ ہمارے لکھنے سے شاید کسی کی جان ہی بچ جائے۔ جزاک اللہ۔