Category Archives: عمومی

آخر قبر میں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے


روزنامہ جنگ جیسے اخبار کی خبر دیکھئیے۔۔۔آخر ہمارے ضمیر کو ہو کیا گیا ہے؟ بی بی سی اپنی خبر پر قائم ہے اور ہمارے اخبارات جھوٹ کا پلندہ شائع کرنے سے باز ہی نہیں آتے۔ آخر کوئی تو اخلاقیات ہونی چاہئیے۔۔۔۔۔۔باطل کا ساتھ دے کر یہ لوگ کتنا مال بنا لیں گے، جانا تو آخر قبر ہی میں ہے جہاں سبھی خالی ہاتھ ہی جاتے ہیں کیا فقیر اور کیا بادشاہ۔۔۔۔۔۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔۔۔۔آمین
%d8%ac3
%d8%ac1

%d8%ac2

%d8%ac4

%d8%ac5%d8%a8

%d8%ac6%d8%a8
بی بی سی کی اپنی خبر کی صداقت پر اصرار
http://www.bbc.com/urdu/pakistan-38679048
جنگ اخبار کی خبر کا لنک
http://e.jang.com.pk/01-19-2017/karachi/pic.asp?picname=252746
بی بی سی کی اصل خبر کا لنک
http://www.bbc.com/urdu/world-38601645

شرم باقی نہیں رہی ہے۔۔


وطنِ عزیز میں صحافت کا معیار تو دن بدن گرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ دھوکہ اور فریب دینا شاید ہماری سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔ کتنے فریبی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے نقاب ہو چکے ہیں مگر لوگ ہیں کہ باز ہی نہیں آتے۔ معمولی باتوں پر بریکنگ نیوز اور اسپیشل رپورٹیں آپ سب نے ملاحظہ تو کی ہونگی۔ آج ایک نمونہ پیش خدمت ہے؛
کوئی تین سال پہلےیوٹیوب پر  ٹیکنالوجی کی ایک ٹرِک پوسٹ کی گئی تھی، اس پوسٹ  کا لنک نیچے دیا گیا ہے، پہلے اسے ملاحظہ کیجئیے اور پھر اپنے صحافیوں کے اعلیٰ صحافتی معیار کی داد دیجئیے۔ بعض چینلز پر اس خبر کی رپورٹ بھی چلائی جا چکی ہے۔
اور اس بات کی داد بھی دیجئیے کہ اب یوٹیوب کے شعبدوں کو لوگ اپنی ایجاد کہتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے اگر چہ اصل پوسٹ کوئی 3  سال پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ ایک معمولی ٹرِک کو ایک عظیم اور حیرت انگیز ایجاد قرار دینا واقعی دِل گردے اور ڈھٹائی کا کمال ہے۔ ایسی اسکرین اور ایسی عینک کیا کہنے اس ایجاد کے۔۔۔۔۔۔
ان صاحبان کو بھی داد دیجئیے جو کسی اور کے کام کو اپنی ایجادات قرار دیتے ہوئے حکومتی تحسین و معاونت اور سرپرستی کے طلب گار بھی ہیں۔
واقعی شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

youtube link:

تصویری خبر
BL-news

آج نیوز کا لنک: Aaj news link: http://urdu.aaj.tv/latest/%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2-%D8%A7%DB%8C%D9%84-%D8%B3%DB%8C-%DA%88%DB%8C-%D8%8C%DA%A9%D8%A7%D9%85-%D9%86%D8%B8%D8%B1/

معیارِ صحافت


 آج دو فروری کے جنگ کراچی میں یہ خبر بہت سے لوگوں نے پڑھی ہو گی۔اول تو یہ کوئی خبر نہیں ہے کی فروری میں 29 دن ہیں۔  پھر اسے ایک خاص خبر کی شکل دینا اور ایک مخصوص نایاب صورت میں پیش کرنا۔
ایسی فضول بیشمار خبریں ہیں جو انتہائی غلط اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔
میرا مقصد تنقید صرف یہ ہے کہ آپ کچھ تحقیق تو کر لیا کریں۔
اس صحافی نے کیا تحقیق کی ہو گی؟یہ خبر صرف بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔ باقی قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔
سن 2044 کا فروری بھی سن 2016 کے فروری ہی کی طرح ہو گا۔ سن 2044 اور سن 2016 کے کیلنڈر کے عکس بھی ملاحظہ کر لیجئیے۔
اب 823 سال کے ہندسے کو دیکھئیے اور اس صحافی کی تحقیق کی داد ضرور دیجئیے۔۔۔

 

2016

2016

feb-16

feb-44

شرم تم کو مگر نہیں آتی


کل 30 جنوری 2016 کو ہمارے محترم وزیرِاعظم صاحب نے فرمایا کہ
“آلو کی قیمت 4 یا 5 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، اب حکومت اس سے زیادہ کیا قیمتیں کم کرے اور عوام کو ریلیف دے”
تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا احسان عظیم کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے تو حاتم طائی کی قبر کو بھی لات دے ماری۔ اب عوام بیچارے کیا کریں۔ خوشی سے ناچ بھی رہے ہیں اور بلند آواز میں گاتے بھی جا رہے ہیں
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرم تم کو مگر نہیں آتی

ٹریفک کے مسائل – سواریاں


پاکستان میں ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص اور ناکارہ ہے۔ ٹریفک کے اس ناقص نظام کا خمیازہ عوام کو حادثات میں جانی اور مالی نقصانات کی صورت برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام کی خرابی کے بے شمار عوامل ہیں جن میں سے کچھ زیرِبحث لائے جائیں گے۔
آج ہم یہ دیکھیں گے کہ سڑکوں پر محفوظ سفر کے لیے کچھ سواریوں (Vehicles)کیلیے درکار لازمی شرائط و ضوابط
( لوازم جن کا اہتمام اشد ضروری ہے) کس طرح نظرانداز کیے جاتے ہیں
سائیکل:
آج سے کچھ 25 سال پہلے اگر آپ پاکستان میں چلنے والے سائیکل دیکھتے تو چند چیزیں ہر سائیکل کا لازمی حصہ ہوتی تھیں؛
1۔ گھنٹی،۔ آج آپ کو گھنٹی صرف بچوں کی سائیکلوں میں ہی لگی ملے گی۔
2۔ڈائنمو، ہیڈلائیٹ اور بیک لائیٹ(لائیٹ نہ ہونے کی صورت میں پولیس والے کسی پہیے کی ہوا نکال دیا کرتے تھے)
موٹر سائیکل:
موٹرسائیکل کی سواری آج موت کے کنویں کی سواری بن کر رہ گئی ہے؛ کچھ ضروری چیزیں آپ نے بھی نوٹ کی ہونگی؟
1۔موٹر سائیکل یا بائیک کے عقب نما آئینے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی نئی بائیک کے ساتھ یہ آئینے موجود ہوتے ہیں مگر
سڑک پر آنے والے موٹر سائیکلوں کی ایک قلیل تعداد ہی میں یہ آئینے نظر آئیں گے۔(اتار کر رکھ لیے جاتے ہیں)
2۔ بڑے شہروں میں آپ کو ایک خاصی بڑی تعداد میں ایسے موٹر سائیکل نظر آئیں گے جن کی ہیڈلائیٹ نہیں ہو گی۔
ایک بڑی تعداد بریک لائیٹ کے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہے۔ سمت نما(انڈیکیٹرز) بھی اکثر غائب ہی ملیں گے۔
3۔ موٹر سائیکل سوار بغیر ہیلمٹ کے نظر آتے ہیں۔
4۔ رفتار پیما(اسپیڈ میٹر )بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں۔
5۔ اکژ افراد اپنے موٹر سائیکل کی فاصلہ پیما(اوڈومیٹر) کی تار نکال دیتے ہیں تا کہ جب موٹر سائیکل بیچی جائے تو کم چلی
ہوئی معلوم ہو۔(قومی مکاری اور دھوکہ دہی کا وصف آخر کہاں اور کب کام آئے گا؟)
آٹو رکشہ:
آٹو رکشہ کم فاصلے کے لیے ایک بہترین اور سستی سواری ہوا کرتا تھا مگر اب ریڑھ کی ہڈی کے نقائص کی سب سے بڑی وجہ؛
1۔ اگر آپ موجودہ رکشوں میں بیٹھے ہیں تو یقیناً نوٹ کیا ہو گا کہ ان کی سیٹ انتہائی تکلیف دہ اور رکشہ کی سواری کمر اور
ریڑھ کی ہڈی کیلیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ (رکشے کا ڈیزائن مسافروں کیلیے بہت غیرمحفوظ ، بیہودہ اور خطرناک ہے)
2۔ کرائے کے تعین کے لیے قانونی میٹرز اکثر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اگر موجود ہوں بھی تو استعمال نہیں کیے جاتے۔
کرائے کا تعین اپنی من مانی سے کیا جاتا ہے، مسافر کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اصل سے کئی گنا زائدکرایہ لیا جاتا ہے۔
3۔ اکثر رکشے CNGکے ناغے والے دن LPGیا پٹرول کا استعمال کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات اور دھماکے ہو چکے ہیں۔
ٹیکسی:
کار گاڑی ایک آرام دہ سواری ہے جو سفر کو محفوظ، پُرسُکون اور تیز رفتار بناتی ہے، مگر افسوس ہمارے ملک میں یہ سواری اب کچھ اس حال میں پہنچ گئی ہے؛
1۔ ٹیکسیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں اور ہسپتالوں کے نزدیک ہی دستیاب ہوتی ہیں، ان مقامات کے علاوہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی آپ کو ٹیکسی بڑی مشکل سے ملے گی۔
2۔ ائیر پورٹ کے علاوہ کسی ٹیکسی میں کرایہ میٹر نہیں ملیں گے۔ اپنی مرضی سے من مانا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔
3۔ اچھی، نئی اور قابلِ استعمال ٹیکسیاں صرف ائیر پورٹ پر ہی ملیں گی۔ شہر میں اکثر ٹیکسیاں انتہائی خستہ حالت میں چلتی نظر آتی ہیں(یہ ٹیکسیاں 30 سے 45 سال پرانی گاڑیوں کے ڈھانچوں پر مشتمل ہوتی ہیں)، ان کی حالت کے پیشِ نظر آپ ایسی ٹیکسی میں بیٹھنا ہرگز پسند نہیں کریں گے۔
سائیکل، موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور ٹیکسی کبھی کسی زمانے میں احتیاط، حفاظت اور ذمہ داری کی علامت ہوا کرتے تھے مگر آج یہ خطرناک حادثات کا سبب صرف اس لیے بن گئے ہیں کہ ہم نے ان سواریوں کے استعمال کے جو قاعدے ، قانون اور اصول لازمی تھے ، انہیں پسِ پُشت ڈال دیا اور اپنی جہالت کے سبب انہیں جان لیوا، خطرناک اور تکلیف دہ بنا لیا، یہ ہماری جہالت ہی ہے جو ہمیں مفید اشیاء کو ضرر رساں بنا دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیندہ پوسٹ میں انشاءاللہ اس موضوع پر مزید بحث جاری رہے گی۔(کچھ اور سواریاں زیر بحث ہونگی)
پڑھنا جاری رکھیں

ایسا کیوں؟


ہماری موبائل کمپنیاں ہمیں کس طرح بیوقوف بناتی ہیں؟ ufoneکی 666  یوٹیون سروس سے یہ پیغام ملا؛
Namaz k auqat pey Azaan ko apni Utune banaein bilkul MUFT.
Is message per Namaz likh k reply Karen. Sirf 99 Paisas/Day.
اب یہاں مفت کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب کمپنی کاکوئی وفادار سیانا ہی سمجھا سکتا ہے! عوام کو ان فریبوں،چالاکیوں، مکاریوں اور ذومعنی پیشکشوں سےان کمپنیوں کو کیا تسکین ملتی ہے؟ سوائے عوام کو لوٹنے کے!!! آپ کو کیا سمجھ آتا ہے ان طور طریقوں سے؟

یہ مشتعل عوام۔۔۔ کوئی پاکستان کو ان سے بچائے


لاہور میں کل اتوار کے دن گرجا گھروں پر 2 خودکش حملے کیے گئے۔۔۔۔قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔ درجنوں زخمی ہوئے۔ اس سانحےکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اور حکومت کو  انسانیت کے ان دشمنوں کے خلاف پوری قوت استعمال کرنی چاہیئے اور انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ پاکستانی عوام کو بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا کہ اور کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں ہے۔ اس سانحے کے فوراََ بعد ایک اور سانحہ بھی رونما ہوا کہ مشتعل "عوام” نے دو "مشتبہ” افراد کو بہیمانہ اور سفاکانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جلا ڈالا اور لاشوں کی بھی بے حرمتی کی۔ اس قبیح ، قابلِ نفرت عمل کو بعض صاحبان اشتعال اور غم کا فوری ردِ عمل قرار دیتے ہوئے جائز  قرار دیتے ہیں پر یاد رہے کہ کسی مہذب "مہذب” معاشرے میں ایسی کسی کارروائی کو کسی نظر سے بھی جائز نہیں سمجھا جاتا۔  طالبان اور اس مشتعل ہجوم کے طرزِعمل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ان واقعات کے مطابق تو  یقیناََ ہم ایک مہذب معاشرہ نہیں ہیں۔ یہ واقعات کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ ان عناصر نے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا، عام لوگوں پر تشدد کیا، اور دہشت پیدا کی لہذا یہ بھی دہشت گرد ہی کہلائیں گے۔ ۔ پہلے ایسے واقعات اکا دکا ہوا کرتے تھے۔ پھر 27 دسمبر 2007 کا واقعہ ہوا اور سندھ کی کمزور حکومت نے ملکی املاک کو جلانے، لوٹنے اور نقصان پہنچانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ دی اور یوں یہ عناصر بے لگام ہوتے چلے گئے، اندرونی اور بیرونی دشمن بھی شامل ہوتے چلے گئے اور آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کو ان عناصر کے خلاف بلا کسی تفریق اور امتیاز سخت ترین کارروائی کرنی ہوگی تا کہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے ورنہ یہ تو نوشتہ دیوار ہے کہ ہم اپنی تباہی کے خود ہی ذمہ دار ہیں اور اپنی قبر خود اپنے ہاتھوں کھود رہے ہیں اور ہمارا معاشرہ وحشی جانوروں کاایک جنگل بنتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ ہمارےمعاشرے میں برداشت اور تحمل کا عنصر یکسر عنقا ہو چکا ہے۔ قانون اور انصاف کے موجودہ نظام پر عدم اعتماد اس صورتحال کاسبب ہیں۔ میں اس بات کا شدت سے قائل ہوں کہ کسی بھی فرد ادارے یا گروہ کو قانون کسی بھی انتہائی حالت میں بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے۔۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ہمارے حال پر رحم کرے۔۔آمین