جراثیم کش صابن(Antibacterial Soap)کے اشتہارات



آجکل میڈیا پر جراثیم کُش صابن کے اشتہارات تو دیکھے ہی ہوں گے۔ یہ اشتہارات آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ کے ارد گرد کروڑوں نقصان دِہ بیکٹیریا اور دیگر جراثیم موجود ہیں جو آپ کی صحت کو نقصان پہنچائیں گے صرف اور صرف ایک صورت میں کہ
آپ نے اس اشتہار میں بتائے گئے جراثیم کُش صابن کو استعمال نہ کیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اشتہار آپ کوہرگز ہرگز نہیں بتائے گا کہ؛
1۔ صفائی کے عمومی اُصُول کیا ہیں؟
2۔ یہ جراثیم صرف ہاتھوں ہی کے ذریعے انسانی جسم میں نہیں پہنچتے۔
3۔ یہ جراثیم ہوا، کھانے اور پینے کی اشیاء اور برتنوں کے ذریعے بھی انسانی جسم تک رسائی پاتے ہیں۔
4۔ان اشتہارات میں ڈاکٹر جعلی ہوتے ہیں۔
5۔ اکثر ریفرنس اور دکھائی جانے والی LABSبھی جعلی ہوتی ہیں۔
6۔ ایسے اشتہارات آپ کو معلومات دینے کے بجائے اپنا مخصوص ایجنڈا ہی پورا کرتے ہیں۔
مانا کہ تشہیر ان کمپنیوں کا حق ہے اور وہ اپنی مصنوعات کی تشہیر جیسے چاہیں کر سکتی ہیں۔ مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
1۔ کیا ان اشتہارات کی کوئی سنسر شپ بھی ہوتی ہے؟
2۔ ایک ایسی پراڈکٹ جو لوگوں کی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے کے اشتہار کے لیے محکمۂ صحت نے کوئی منظوری دی ہے؟
3۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(PMA) جیسے اداروں کا ان اشتہارات کے حوالے سے کیا کردار ہوتا ہے؟
4۔ اشتہار میں کیے گئے دعوؤں کی جانچ پڑتال کہاں کی جاتی ہے؟
5۔ کیا یہ تحقیق کسی ملکی ادارے کی نظروں سے گذری ہے؟
جبکہ
FDA کی 42 سالہ تحقیقات کا نچوڑ یہ ہے کہ
ایسے جراثیم کش صابن بے فائدہ اور غیر مؤثر ہیں۔ مزید براں (Triclosan) نامی کیمیائی جز کے حامل صابن نقصان دہ ، مضر صحت اور ماحول دشمن ہیں۔ FDAکی رپورٹ کے مطابق صابن ساز کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ 2016کے اختتام تک؛
وہ ان کی افادیت کے ثبوت فراہم کریں یا
Triclosan کا استعمال ترک کریں یا
2016 کے بعد اپنی مصنوعات کی تیاری بند کردیں۔

جراثیم کُش صابن(Antibacterial Soap)


جراثیم کش صابن(Antibacterial Soap)
جراثیم کش صابن آپ نے دیکھے اور یقیناً استعمال بھی کیے ہوں گے۔ میڈیا پر چلنے والے ان کے اشتہار بھی دیکھے ہوں گے۔ ان اشتہارات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ صابن اور صرف یہی صابن آپ کی صحت کے ضامن ہیں، یہ صابن اتنی بیماریوں اور اتنے بیکٹیریا کو سیکنڈوں میں ہلاک کر کے آپ کو صحت مند بناتے ہیں۔اگر آپ نے سادہ صابن استعمال کیا تو آپ بیمار ہو جائیں گے اور آپ کی صحت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ آئیے آج ایک نظر ان جراثیم کش صابنوں پر ڈالتے ہیں۔
جراثیم کش صابن:
کوئی بھی ایسا صابن جس میں جراثیم کو مارنے کے لیے کوئی جراثیم کش (Antimicrobial)مادہ(Triclosan, Triclocarbon, Chloroxylenol & tetrasodium) استعمال کیا گیا ہو، جراثیم کش صابن کہلاتا ہے۔یہ صابن کچھ بیکٹیریا کو مار تو دیتا ہے مگر وائرس(Virus) پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ انسانی صحت کیلیے غیر مضر بیکٹیریا (Non-pathogenic)کو بھی تلف کر دیتا ہے ۔
مشہور امریکی ادارےFDAکی 42 سالہ تحقیق کے مطابق ان نام نہاد جراثیم کش صابنوں کے فوائد اور مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ FDAنے امریکہ میں ایسے صابن تیار کرنے والی کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 2016 کے اختتام تک ان صابنوں کے مفید اور مؤثر ہونے کے ثبوت فراہم کریں بصورت دیگر اپنی مصنوعات کی (Triclosan کو ہٹا کر) لیبلینگ تبدیل کریں یا 2016 کے بعد اپنی مصنوعات کی تیاری بند کردیں۔ FDA ان کو مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
FDAکی رپورٹ کے مطابق؛
1۔ سادہ صابن اور پانی بمقابلہ جراثیم کش صابن: جراثیم کش صابن سادہ صابن اور پانی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر و مفید نہیں ہےالبتہ یہ مہنگا ضرور ہے۔
2۔ وائرس پر اثر: عام تاثر کے بر عکس یہ صابن وائرس(Virus) پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتے۔ نزلہ اور زکام کے پھیلاؤ یہ صابن کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ اس کے علاوہ سانس اور آنتوں کے انفیکشن کو روکنے میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آیا۔ نقصان دِہ بیکٹیریا (Pathogenic)کے ساتھ ساتھ غیر ضرر رساں بیکٹیریا(Non-pathogenic) کو بڑی تعداد میں ہلاک کر دیتا ہے۔
3۔ماحول دشمن: Triclosanمادے والے صابن ماحول دشمن ہیں، پانی کے ذخائر میں شامل ہو کر یہ مادہ الجی کے ضیائی تالیف(Photosynthesis) کو متاثر کر کے آکسیجن کی پیداوار میں کمی لاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سروے(USGS ) کے مطابق یہ چربی میں حل پذیر مادہ ہے جو جانوروں کے خون میں چربی کی مقدار کو بڑھا کر انہیں بیمار کر سکتا ہے۔
4۔اینڈو کرائن غدود پر اثر: Triclosanجانوروں میں تھائیرائیڈ ہارمون کے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور ان میں کینسر، بانجھ پن اور جلد بلوغت جیسی بیماریا ں پیدا کر دیتا ہے۔
5۔جراثیم میں مزاحمت کا سبب: جراثیم کش صابن اور اس میں موجود مادے بیکٹیریا میں جراثیم کش مادوں کے خلاف قوت مدافعت یا مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ WHOکے مطابق یہ خطرہ بڑھ رہا ہے اور کچھ بیکٹیریا میں مزاحمت یا مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔ ان صابنوں کے مسلسل استعمال سے خدشہ ہے کہ صرف وہ بیکٹیریا بچ جائیں گے جو قوت مدافعت رکھتے ہوں گے جنہیں ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔
6۔صحت کے مزید مسائل:ایسے صابنوں اور ان میں شامل مادوں کے طویل استعمال سے بچوں میں قدرتی مدافعتی نظام طاقتور نہیں ہو پاتا اور ایسے بچے مختلف بیماریوں اور الرجی کا نسبتاً جلدی شکار ہو جاتے ہیں۔Triclosanجِلد میں سرایت کرنے والا مادہ ہے اور استعمال کرنے والوں کی 75 فیصد تعداد کے خون اور پیشاب میں پایا گیا ہے جو صحت کے مزید کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھئیے۔ فی امان اللہ

حفظان صحت کا ایک اصول


حفظانِ صحت کا ایک زرّیں اُصول (ہاتھوں کا دھونا)
حفظانِ صحت کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے؛ ہاتھوں کا صاف پانی سے دھونا۔
ہمارے ہاتھ ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ صحت کے حوالے سے ان کا ایک خاص مقام ہے۔ کھانا، پینا، صفائی کرنا اور دوسرے بیشمار کام ہمارے ہاتھ ہی سے سر انجام پاتے ہیں۔ اگر ہاتھ صاف ہوں گے تو ہم صحت مند رہیں گے۔
ہاتھ کب دھونے چاہئیں؛
1۔ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد
2۔ کھانا تیار کرنے سے پہلے اور بعد
3۔ باتھ روم استعمال کرنے کے بعد
4۔ ناک صاف کرنے، کھانسنے یا چھینک کے بعد
5۔ کچرے کی صفائی کے بعد
6۔کسی زخم وغیرہ کی صفائی یا پٹّی کے بعد
7۔کسی بیمار یا زخمی کی عیادت کے بعد
8۔کسی جانور(پالتو یا غیر پالتو) کو چھونے کے بعد
ہاتھ کیسے دھوئے جائیں:
ہاتھ اس ترتیب سے دھونے چاہئیں؛
1۔ تر(گیلا) کرنا: رواں/بہتے پانی سے ہاتھ گیلے کریں۔
2۔صابن لگانا: صابن اچھی طرح سے ہتھیلیوں، ہاتھ کی پشت ، انگلیوں اور ناخنوں میں لگائیں۔
3۔ مَلنا: 15 سے 20 سیکنڈز تک ہاتھوں کو خوب ملیں۔
4۔ دھونا: صاف بہتے پانی سے ہاتھوں کو خوب دھوئیں۔
5۔خشک کرنا: صاف کپڑے، تولیے یا ہوا میں ہاتھ خشک کر لیں۔
نوٹ: امریکی ادارے(FDA)کی42 سالہ تحقیق کے مطابق نام نہاد جراثیم کش صابن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے مفید نہیں ہیں انکی بجائے صاف پانی اور سادہ صابن کا استعمال زیادہ مفیدہے۔
نوٹ: جراثیم کش لوشن (Hand Sanitizers) ہاتھوں کو جراثیم سے مکمل صاف نہیں کرتے اس لیے ان کا استعمال صرف خاص مواقع پر ہی کیا جانا چاہئیے۔

مقامی انتخابات


آج دسمبر 2015 کی 5 تاریخ ہے۔
آج بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے تحت پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں لوگ اپنی مقامی حکومتوں کے لیے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
میں تمام ووٹروں سے ایک ہی بات کہوں گا کہ آپ ذات، برادری، قومیت، زبان اور نسلی تعصبات چھوڑ کر صرف اور صرف ذاتی کردار اور اچھائی کی بنیاد پر ہی اپنے نمائندوں کو منتخب کریں
ورنہ
اگلے چار سال نا انصافی اور استحصال کو برداشت کرنے کے لیے ابھی سے تیار ہو جائیں۔
آخر مفادات اور تعصبات کی سیاست کے منفی ثمرات سے ہم لوگوں نے ہی مستفیض ہونا ہے۔

ٹریفک کے مسائل – سواریاں


پاکستان میں ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص اور ناکارہ ہے۔ ٹریفک کے اس ناقص نظام کا خمیازہ عوام کو حادثات میں جانی اور مالی نقصانات کی صورت برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام کی خرابی کے بے شمار عوامل ہیں جن میں سے کچھ زیرِبحث لائے جائیں گے۔
آج ہم یہ دیکھیں گے کہ سڑکوں پر محفوظ سفر کے لیے کچھ سواریوں (Vehicles)کیلیے درکار لازمی شرائط و ضوابط
( لوازم جن کا اہتمام اشد ضروری ہے) کس طرح نظرانداز کیے جاتے ہیں
سائیکل:
آج سے کچھ 25 سال پہلے اگر آپ پاکستان میں چلنے والے سائیکل دیکھتے تو چند چیزیں ہر سائیکل کا لازمی حصہ ہوتی تھیں؛
1۔ گھنٹی،۔ آج آپ کو گھنٹی صرف بچوں کی سائیکلوں میں ہی لگی ملے گی۔
2۔ڈائنمو، ہیڈلائیٹ اور بیک لائیٹ(لائیٹ نہ ہونے کی صورت میں پولیس والے کسی پہیے کی ہوا نکال دیا کرتے تھے)
موٹر سائیکل:
موٹرسائیکل کی سواری آج موت کے کنویں کی سواری بن کر رہ گئی ہے؛ کچھ ضروری چیزیں آپ نے بھی نوٹ کی ہونگی؟
1۔موٹر سائیکل یا بائیک کے عقب نما آئینے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی نئی بائیک کے ساتھ یہ آئینے موجود ہوتے ہیں مگر
سڑک پر آنے والے موٹر سائیکلوں کی ایک قلیل تعداد ہی میں یہ آئینے نظر آئیں گے۔(اتار کر رکھ لیے جاتے ہیں)
2۔ بڑے شہروں میں آپ کو ایک خاصی بڑی تعداد میں ایسے موٹر سائیکل نظر آئیں گے جن کی ہیڈلائیٹ نہیں ہو گی۔
ایک بڑی تعداد بریک لائیٹ کے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہے۔ سمت نما(انڈیکیٹرز) بھی اکثر غائب ہی ملیں گے۔
3۔ موٹر سائیکل سوار بغیر ہیلمٹ کے نظر آتے ہیں۔
4۔ رفتار پیما(اسپیڈ میٹر )بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں۔
5۔ اکژ افراد اپنے موٹر سائیکل کی فاصلہ پیما(اوڈومیٹر) کی تار نکال دیتے ہیں تا کہ جب موٹر سائیکل بیچی جائے تو کم چلی
ہوئی معلوم ہو۔(قومی مکاری اور دھوکہ دہی کا وصف آخر کہاں اور کب کام آئے گا؟)
آٹو رکشہ:
آٹو رکشہ کم فاصلے کے لیے ایک بہترین اور سستی سواری ہوا کرتا تھا مگر اب ریڑھ کی ہڈی کے نقائص کی سب سے بڑی وجہ؛
1۔ اگر آپ موجودہ رکشوں میں بیٹھے ہیں تو یقیناً نوٹ کیا ہو گا کہ ان کی سیٹ انتہائی تکلیف دہ اور رکشہ کی سواری کمر اور
ریڑھ کی ہڈی کیلیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ (رکشے کا ڈیزائن مسافروں کیلیے بہت غیرمحفوظ ، بیہودہ اور خطرناک ہے)
2۔ کرائے کے تعین کے لیے قانونی میٹرز اکثر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اگر موجود ہوں بھی تو استعمال نہیں کیے جاتے۔
کرائے کا تعین اپنی من مانی سے کیا جاتا ہے، مسافر کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اصل سے کئی گنا زائدکرایہ لیا جاتا ہے۔
3۔ اکثر رکشے CNGکے ناغے والے دن LPGیا پٹرول کا استعمال کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات اور دھماکے ہو چکے ہیں۔
ٹیکسی:
کار گاڑی ایک آرام دہ سواری ہے جو سفر کو محفوظ، پُرسُکون اور تیز رفتار بناتی ہے، مگر افسوس ہمارے ملک میں یہ سواری اب کچھ اس حال میں پہنچ گئی ہے؛
1۔ ٹیکسیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں اور ہسپتالوں کے نزدیک ہی دستیاب ہوتی ہیں، ان مقامات کے علاوہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی آپ کو ٹیکسی بڑی مشکل سے ملے گی۔
2۔ ائیر پورٹ کے علاوہ کسی ٹیکسی میں کرایہ میٹر نہیں ملیں گے۔ اپنی مرضی سے من مانا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔
3۔ اچھی، نئی اور قابلِ استعمال ٹیکسیاں صرف ائیر پورٹ پر ہی ملیں گی۔ شہر میں اکثر ٹیکسیاں انتہائی خستہ حالت میں چلتی نظر آتی ہیں(یہ ٹیکسیاں 30 سے 45 سال پرانی گاڑیوں کے ڈھانچوں پر مشتمل ہوتی ہیں)، ان کی حالت کے پیشِ نظر آپ ایسی ٹیکسی میں بیٹھنا ہرگز پسند نہیں کریں گے۔
سائیکل، موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور ٹیکسی کبھی کسی زمانے میں احتیاط، حفاظت اور ذمہ داری کی علامت ہوا کرتے تھے مگر آج یہ خطرناک حادثات کا سبب صرف اس لیے بن گئے ہیں کہ ہم نے ان سواریوں کے استعمال کے جو قاعدے ، قانون اور اصول لازمی تھے ، انہیں پسِ پُشت ڈال دیا اور اپنی جہالت کے سبب انہیں جان لیوا، خطرناک اور تکلیف دہ بنا لیا، یہ ہماری جہالت ہی ہے جو ہمیں مفید اشیاء کو ضرر رساں بنا دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیندہ پوسٹ میں انشاءاللہ اس موضوع پر مزید بحث جاری رہے گی۔(کچھ اور سواریاں زیر بحث ہونگی)
پڑھنا جاری رکھیں

حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے


یہ خبر پڑھئیے اور پاکستانی حکومت کی غیرت اور حمیت کی داد دیجئیے۔۔۔
BBC-talor
ummat-talor


اب بس یہی کہنا پڑتا ہے۔
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

ایسا کیوں؟


ہماری موبائل کمپنیاں ہمیں کس طرح بیوقوف بناتی ہیں؟ ufoneکی 666  یوٹیون سروس سے یہ پیغام ملا؛
Namaz k auqat pey Azaan ko apni Utune banaein bilkul MUFT.
Is message per Namaz likh k reply Karen. Sirf 99 Paisas/Day.
اب یہاں مفت کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب کمپنی کاکوئی وفادار سیانا ہی سمجھا سکتا ہے! عوام کو ان فریبوں،چالاکیوں، مکاریوں اور ذومعنی پیشکشوں سےان کمپنیوں کو کیا تسکین ملتی ہے؟ سوائے عوام کو لوٹنے کے!!! آپ کو کیا سمجھ آتا ہے ان طور طریقوں سے؟