Tag Archives: ٹریفک

کراچی اور ٹریفک کے مسائل-1


کراچی دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ کبھی یہ شہر اپنی کھلی اور کشادہ شاہراؤں کے لیے مشہور تھا۔ یہاں ٹرام چلتی تھی، لوکل ٹرین چلتی تھی، ٹانگے چلا کرتے، یہاں کی بسیں اور منی بسیں اپنی سروس کے لیے مشہور تھیں۔ آپ بہت معمولی کرائے میں پورا شہر گھوم لیتے تھے۔ اور یہ زیادہ پرانی بات بھی نہیں، یہی 30 برس پہلے ہی کا قصہ ہے۔ ارباب اقتدار کی کوتاہ نظری کہ انہوں نے بڑھتی آبادی کے تناسب سے اس شہر کی بنیادی سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ شہر میں جلاؤ گھیراؤ کے دوران بسوں ٹیکسیوں کو جلانا معمول بنتا گیا۔ ٹرانسپورٹر ز کی دلجوئی اور ان کے نقصان کا کوئی مداوا نہ کیا گیا۔ رفتہ رفتہ سڑکوں سے بسیں کم ہونے لگیں، پھر ٹیکسیاں غائب ہوتی چلی گئیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں CNG رکشے اتنی تعداد میں شہر میں پھیلا دیے گئے کہ دوسری کوئی سواری باقی ہی نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے کے لیےہر روٹ پر بسیں اور منی بسیں موجود ہوتی تھیں۔ اب چنگ چی نامی بھیانک سواری نے ان کی جگہ لے لی۔ ایسا کیوں ہوا؟
ایسا اس لیے ہوا کہ کراچی کے لیے سوچنے والا کوئی نہ رہا ۔ جن کو 50 سال پہلے اس شہر کی اگلے 70سال کی منصوبہ بندی کرنی تھی انہوں نے اپنی قبریں بھرنے اور جہنم کی آگ خریدنے کے لیے کمیشن اور اپنی جیب بھرنے پر دھیان دیا۔ یوں شہر تباہ ہوتا چلا گیا۔ سڑکوں پر تجازات پھیلتی چلی گئیں۔ سڑکیں پارکنگ کے نام پر بکنے لگیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے غائب ہونے پر عوام کو اپنی کنوینس کے لیے موٹر سائیکل اور گاڑیاں لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ شہر میں ٹریفک جام معمول بننے لگا۔ جہاں 10 بسوں میں 800 لوگ سفر کر لیتے تھے اب وہی 800لوگ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر کئی کلومیٹر کے ٹریفک جام میں پھنسے رہنے لگے۔ گاڑیوں کی تعداد بڑھی تو دھواں اور شور بھی بڑھنے لگا۔ سانس کی بیماریاں بڑھنے لگیں۔ شور کی آلودگی سے ذہنی دباؤ ، چڑچڑا پن، عدم برداشت اور بلند فشار ِ خون کے امراض میں اضافہ ہونے لگا۔
آج اس شہر کو کم از کم 6 سے 10ہزار بڑی بسوں کی ضرورت ہے۔ زیرِ زمین ریلوے کی ضرورت ہے، تا کہ یہ شہر سانس لے سکے ، اس شہر کے باسی آلودگی سے نجات پا سکیں۔ لوکل ریلوے کے مربوط اور فعّال نظام کی ضرورت ہے۔ اس شہر کو جنگی بنیادوں پر ٹریفک کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس شہر کو زیر زمین ریلوے کا نظام دیا جائے۔
دنیا کے بڑے شہر جیسے نیویارک، لندن، پیرس وغیرہ کو سامنے رکھیں، وہاں زیر زمین سرنگیں آج سے 100 سال پہلے وجود میں لائی جا چکی تھیں۔ اور آج ان شہروں میں ہائی اسپیڈ ریلوے کا اعلیٰ نظام موجود ہے۔ چین کی ریل کی ترقی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہونی چاہئیے ، چین ہائی اسپیڈ ریلوے میں اس وقت دنیا میں سب سے آگے ہے۔ حتیٰ کہ پڑوسی ملک بھارت میں ممبئی اور دہلی بھی زیر زمین  ریلوے سرنگوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
حکومت اپنے کردار کو سمجھے، قانون سازی کرے، عوام میں آگاہی پھیلائے۔ حکومت (Regulator) کا کام سنبھالے۔ نجی شعبے کو ٹرانسپورٹ چلانے کی ذمہ دا
ری دے۔ کسی قسم کی کوتاہی اور انتظامی خامی کو ہر گز برداشت نہ کیا جائے۔ انتظامیہ اپنے وضع کردہ قوانین پر سختی سے عمل کروائے۔ ٹریفک پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے۔ انشاء اللہ بہت جلد نتائج عوام کے سامنے ہوں گے۔

ٹریفک کے مسائل – سواریاں


پاکستان میں ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص اور ناکارہ ہے۔ ٹریفک کے اس ناقص نظام کا خمیازہ عوام کو حادثات میں جانی اور مالی نقصانات کی صورت برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام کی خرابی کے بے شمار عوامل ہیں جن میں سے کچھ زیرِبحث لائے جائیں گے۔
آج ہم یہ دیکھیں گے کہ سڑکوں پر محفوظ سفر کے لیے کچھ سواریوں (Vehicles)کیلیے درکار لازمی شرائط و ضوابط
( لوازم جن کا اہتمام اشد ضروری ہے) کس طرح نظرانداز کیے جاتے ہیں
سائیکل:
آج سے کچھ 25 سال پہلے اگر آپ پاکستان میں چلنے والے سائیکل دیکھتے تو چند چیزیں ہر سائیکل کا لازمی حصہ ہوتی تھیں؛
1۔ گھنٹی،۔ آج آپ کو گھنٹی صرف بچوں کی سائیکلوں میں ہی لگی ملے گی۔
2۔ڈائنمو، ہیڈلائیٹ اور بیک لائیٹ(لائیٹ نہ ہونے کی صورت میں پولیس والے کسی پہیے کی ہوا نکال دیا کرتے تھے)
موٹر سائیکل:
موٹرسائیکل کی سواری آج موت کے کنویں کی سواری بن کر رہ گئی ہے؛ کچھ ضروری چیزیں آپ نے بھی نوٹ کی ہونگی؟
1۔موٹر سائیکل یا بائیک کے عقب نما آئینے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی نئی بائیک کے ساتھ یہ آئینے موجود ہوتے ہیں مگر
سڑک پر آنے والے موٹر سائیکلوں کی ایک قلیل تعداد ہی میں یہ آئینے نظر آئیں گے۔(اتار کر رکھ لیے جاتے ہیں)
2۔ بڑے شہروں میں آپ کو ایک خاصی بڑی تعداد میں ایسے موٹر سائیکل نظر آئیں گے جن کی ہیڈلائیٹ نہیں ہو گی۔
ایک بڑی تعداد بریک لائیٹ کے بغیر سڑکوں پر دوڑ رہی ہے۔ سمت نما(انڈیکیٹرز) بھی اکثر غائب ہی ملیں گے۔
3۔ موٹر سائیکل سوار بغیر ہیلمٹ کے نظر آتے ہیں۔
4۔ رفتار پیما(اسپیڈ میٹر )بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں۔
5۔ اکژ افراد اپنے موٹر سائیکل کی فاصلہ پیما(اوڈومیٹر) کی تار نکال دیتے ہیں تا کہ جب موٹر سائیکل بیچی جائے تو کم چلی
ہوئی معلوم ہو۔(قومی مکاری اور دھوکہ دہی کا وصف آخر کہاں اور کب کام آئے گا؟)
آٹو رکشہ:
آٹو رکشہ کم فاصلے کے لیے ایک بہترین اور سستی سواری ہوا کرتا تھا مگر اب ریڑھ کی ہڈی کے نقائص کی سب سے بڑی وجہ؛
1۔ اگر آپ موجودہ رکشوں میں بیٹھے ہیں تو یقیناً نوٹ کیا ہو گا کہ ان کی سیٹ انتہائی تکلیف دہ اور رکشہ کی سواری کمر اور
ریڑھ کی ہڈی کیلیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ (رکشے کا ڈیزائن مسافروں کیلیے بہت غیرمحفوظ ، بیہودہ اور خطرناک ہے)
2۔ کرائے کے تعین کے لیے قانونی میٹرز اکثر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اگر موجود ہوں بھی تو استعمال نہیں کیے جاتے۔
کرائے کا تعین اپنی من مانی سے کیا جاتا ہے، مسافر کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اصل سے کئی گنا زائدکرایہ لیا جاتا ہے۔
3۔ اکثر رکشے CNGکے ناغے والے دن LPGیا پٹرول کا استعمال کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے اور اس کی وجہ سے کئی جان لیوا حادثات اور دھماکے ہو چکے ہیں۔
ٹیکسی:
کار گاڑی ایک آرام دہ سواری ہے جو سفر کو محفوظ، پُرسُکون اور تیز رفتار بناتی ہے، مگر افسوس ہمارے ملک میں یہ سواری اب کچھ اس حال میں پہنچ گئی ہے؛
1۔ ٹیکسیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے، ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں اور ہسپتالوں کے نزدیک ہی دستیاب ہوتی ہیں، ان مقامات کے علاوہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی آپ کو ٹیکسی بڑی مشکل سے ملے گی۔
2۔ ائیر پورٹ کے علاوہ کسی ٹیکسی میں کرایہ میٹر نہیں ملیں گے۔ اپنی مرضی سے من مانا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔
3۔ اچھی، نئی اور قابلِ استعمال ٹیکسیاں صرف ائیر پورٹ پر ہی ملیں گی۔ شہر میں اکثر ٹیکسیاں انتہائی خستہ حالت میں چلتی نظر آتی ہیں(یہ ٹیکسیاں 30 سے 45 سال پرانی گاڑیوں کے ڈھانچوں پر مشتمل ہوتی ہیں)، ان کی حالت کے پیشِ نظر آپ ایسی ٹیکسی میں بیٹھنا ہرگز پسند نہیں کریں گے۔
سائیکل، موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور ٹیکسی کبھی کسی زمانے میں احتیاط، حفاظت اور ذمہ داری کی علامت ہوا کرتے تھے مگر آج یہ خطرناک حادثات کا سبب صرف اس لیے بن گئے ہیں کہ ہم نے ان سواریوں کے استعمال کے جو قاعدے ، قانون اور اصول لازمی تھے ، انہیں پسِ پُشت ڈال دیا اور اپنی جہالت کے سبب انہیں جان لیوا، خطرناک اور تکلیف دہ بنا لیا، یہ ہماری جہالت ہی ہے جو ہمیں مفید اشیاء کو ضرر رساں بنا دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیندہ پوسٹ میں انشاءاللہ اس موضوع پر مزید بحث جاری رہے گی۔(کچھ اور سواریاں زیر بحث ہونگی)
کو پڑھنا جاری رکھیں