Tag Archives: پنجاب

سردارعثمان خان بزدار وزیرِ اعلیٰ پنجاب


کسی نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ جنوبی پنجاب کی پسماندہ تحصیل تونسہ شریف سے منتخب ایک سردار کو عمران خان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیرِ اعلیٰ بنا دیں گے۔ تحصیل تونسہ کی عوام سردار صاحب کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر بہت خوش ہوئی تھی کہ ہمارے اپنے علاقے کا سردار وزیرِ اعلیٰ بن چکا ہے تو اب ہم سکھ کی سانس لیں گے مگر یہ ان کی خوش خیالی تھی!سردار صاحب میں لاکھوں خوبیاں ہونگی۔ ان کے مقدر کا ستارہ بھی بہت بلندی پر چمک رہا ہے۔ اللہ ان کو اور ترقی دے۔ لیکن گذشتہ 2 سال کی کارکردگی سے سردار صاحب عوام کو بہرحال متاثر نہیں کر سکے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے کو ایک ایسے متحرک سیاستدان کی ضرورت ہے جو 24 گھنٹوں میں سے20 گھنٹے کام کرتا ہو۔جس کا ایک پاؤں سیالکوٹ تو دوسرا شاہوالی میں رہتاہو! جس کے جسم میں خون کی جگہ سیماب بھرا ہو! پنجاب بہت بڑا صوبہ ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے وعدے کے مطابق اسے 2 صوبوں میں تقسیم کردینا چاہئیے تھا۔ صوبے کے مرکز لاہور میں بیٹھ کر صوبہ چلانا نا ممکن ہے۔ سردار صاحب کو ہر وقت حرکت میں رہنا ہو گا۔ صوبے کے ہر ضلعے تک خود پہنچ کر وہاں کے مسائل کو وقت دینا ہو گا۔ افسرِ شاہی آپ کا کام کیوں کرے گی؟ اس کی نوکری 30 سال کے لیے پکی ہے۔ آپ کی نوکری کا نہیں پتہ۔ 5 سال پورے بھی کر لیے تو اگلے الیکشن میں اس کارکردگی پر جیتنا ممکن نہیں ۔ وزیرِ اعلیٰ بننا تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ وزیرِ اعلیٰ ہوں کہ باقی وزیر ان کا عوام کی خدمت کے لیے کوشاں رہنے کے علاوہ بھی کوئی کام ہو سکتا ہے؟ اگر ان کو دوسرے کوئی کام ہیں تو پھر سیاست چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیں۔ حکومت میں رہتے ہوئے اگر آپ کے پاس عوام کے لیے وقت نہیں تو پھر کب ہو گا؟ وزیر اعلیٰ صاحب کھلی کچہریاں لگاتے، شہر شہر دورہ کرتے، ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کا معائینہ کرتے، عوام کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے تو بہتر ہوتا۔ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں بیٹھ کر یہ صوبہ نہیں چلایا جا سکتا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سردار صاحب اپنے تحصیل تونسہ پر وہ توجہ نہ دے سکے جو اس کا حق تھا۔ ایک مثال دیکھیں، پشاور سے کراچی جانے والی انڈس ہائی وےتحصیل تونسہ سے گذرتی ہے ، تحصیل تونسہ کی حدود میں 2 عدد ٹول پلازہ بھی واقع ہیں جو روزانہ لاکھوں کا ریونیو جمع کرتے ہیں۔ اور انڈس ہائی وے کا پل قمبر سے رمک کا ٹکڑاگزشتہ ڈیڑھ سال سے انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ خاص طور پر کوٹ قیصرانی موڑ سے ٹبی قیصرانی تک انڈس ہائی وے کی جو حالت ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ ہائی وے کے نام پر کھڈے ، گڑھے، دھول اور مٹی کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ہے۔ موئن جو دڑو کے وقت کی کچی سڑکیں اس نام نہاد ہائی وے سے یقیناً بہت بہتر ہونگی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے یہ سڑک گاڑیوں اور مسافروں کے لیے اذیت کا وہ شاہکار ہے جس کی تعریف الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں! اگر بارش ہو جائے تو پھر سونے پر سہاگا ہو جاتا ہے۔ کیچڑ کے سوئمنگ پول جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں جن میں تحصیل تونسہ کی عوام ڈبکیاں لگاتی اور سردار صاحب کو دعائیں دیتی نظر آجاتی ہے۔ اگر سردار صاحب اپنے عوام کا خیال رکھ رہے ہوتے تو یقین کریں یہ سڑک ڈیڑھ سال پہلے ہی بہترین حالت میں آ چکی ہوتی۔ مگر کوئی یہاں آئے تو عوام کی حالت کا پتہ چلے! میڈیا کے توسط سے کتنے بھائی سردار صاحب کو مخاطب کر چکے ، دہائیاں دے چکے، دادرسی کے لیے فریاد بلند کر چکے مگر سردار صاحب اور ان کی انتظامیہ کے کانوں تک کوئی آواز نہیں پہنچ سکی! جس وزیرِ اعلیٰ کے اپنے علاقے کے مسائل ہی حل نہ ہو سکے ہوں وہ باقی صوبے کے مسائل کیسے حل کر سکتے ہیں؟

گنّا اور شوگر ملیں


گنّا اور اس کے موجودہ مسائل
گنا ہماری اہم فصلوں میں سے ایک فصل ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے ہمارے کسان کپاس کی فصل کی جگہ گنا زیادہ کاشت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اب لگتا ہے کہ وہ گنے کی کاشت کو بھی خیر باد کہہ دیں گے۔ کپاس کی فصل کے ان گنت مسائل ہیں، مختلف ضرر رساں کیڑوں سے فصل کا تباہ ہوجانا، قیمت مناسب نہ ہونا، پانی کے مسائل، فصل پر اٹھنے والے اخراجات میں مسلسل اضافہ، کھادوں کی بڑھتی قیمت، کپاس کی کاشت کے حوالے سے حکومتی عدم دلچسپی اور کسی حکتِ عملی کا فقدان، کپاس کے کاشت کے مخصوص اضلاع میں دوسری فصلوں کی کاشت،۔ ان مسائل سے تنگ آکر کسان گنے کی کاشت پر مجبور ہوا۔ آج سے سات آٹھ سال پہلے یہ فصل حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت پر با آسانی فروخت ہو جایا کرتی تھی۔۔ لیکن سال بہ سال اسکی قیمت گھٹنے لگی اور کبھی 250 روپے فی من بکنے والی فصل آج 182 روپے فی من کی مقرر کردہ قیمت میں بھی شوگر ملیں خریدنے سے انکاری ہیں۔ اگرچہ چینی کی قیمت 40 روپے سے 55 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی 3 اہم وجوہات ہیں؛
1۔ گنے کی فصل میں بے تحاشہ اضافہ۔کپاس کی فصل کے نقصانات سے دلبرداشتہ کسانوں نے گنے کی فصل کی اچھی قیمت ملنے کی آس اور امید میں اپنی زمینوں پر گنے کی کاشت کو ترجیح دی اور ہر سال اس رحجان میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا، اب اس سال(2017) میں شوگر ملوں کی استعدادِ کار سے زیادہ گنا دستیاب ہے اور مارکیٹ کے اصول طلب اور رسد کا فرق اب اتنا ہے کہ شوگر ملیں اپنی شرائط پر گنے لے سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ شوگر ملوں کے پاس پچھلے سال کا چینی کا ذخیرہ ابھی موجود ہے۔
2۔ حکومتوں کی بے حسی اور عدم فعالیت۔ چونکہ زرعی پالیسی ہر صوبہ خود بنانے کا مجاز ہے اس لیے ہر صوبائی حکومت نے اپنے نرخ خود طے کرنے ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اس وقت کسی صوبائی حکومت کو کسان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سندھ ہو یا پنجاب دونوں صوبوں میں گنے کے کاشت کاروں کو ذلیل و خواار کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں 15 ستمبر 2017 کو سرکاری نرخوں کا اعلان ہو جانا چاہیے تھا اور شوگر ملیں 15 اکتوبر سے کرشنگ سیزن شروع کرنے کی پابند تھیں لیکن حکومت کی طرف سے امدادی قیمت کا اعلان دسمبر کے اختتام پر کیا گیا اور کرشنگ کا آغاز بھی بہت دیر سے کیا گیا ۔ نیز کچھ شوگر ملیں ابھی تک کرشنگ شروع نہیں کر سکی ہیں یا کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی۔ کسانوں کے مسلسل احتجاج کے با وجود تا حال کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اگرچہ حکومت نے 10 روپے فی من زر تلافی بھی شوگر ملوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
3۔ شوگر ملز مافیا کا کسانوں کا استحصال۔ گنے کی فصل میں بے تحاشہ اضافے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب شوگر ملیں اپنی شرائط پر گنا لے رہی ہیں۔ گنے کی خریداری کے لیے وضع طریقہ کار میں بہت نقائص ہیں۔ گنے سے لدی ٹرالیوں کو بہت انتظار کرایا جاتا ہے، رقوم کی ادائیگی بہت دیر سے کی جاتی ہے۔ کچھ شوگر ملوں نے تو پچھلے سال کی رقم بھی کسانوں کو ابھی تک ادا نہیں کی ہے۔ سندھ میں حکمران خاندان کےہی گروپ کی 19 شوگر ملیں ہیں، اسے طرح پنجاب میں بھی شوگر ملوں کے مالک حکومت میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ شوگر ملیں ایک مافیا کی طرح اپنی شرائط پر کام کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ حکومت کا حصہ ہیں اس لیے کسانوں کا استحصال ان کے لیے آسان ہے۔ اپنی من پسند امدادی قیمت مقرر کرانا، اپنی مرضی سے کرشنگ کا آغاز کرنا وغیرہ اس کی واضح مثال ہیں۔

مقامی انتخابات


آج دسمبر 2015 کی 5 تاریخ ہے۔
آج بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے تحت پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں لوگ اپنی مقامی حکومتوں کے لیے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
میں تمام ووٹروں سے ایک ہی بات کہوں گا کہ آپ ذات، برادری، قومیت، زبان اور نسلی تعصبات چھوڑ کر صرف اور صرف ذاتی کردار اور اچھائی کی بنیاد پر ہی اپنے نمائندوں کو منتخب کریں
ورنہ
اگلے چار سال نا انصافی اور استحصال کو برداشت کرنے کے لیے ابھی سے تیار ہو جائیں۔
آخر مفادات اور تعصبات کی سیاست کے منفی ثمرات سے ہم لوگوں نے ہی مستفیض ہونا ہے۔